site
stats
پاکستان

طاہر القادری، 17 جنوری کا احتجاج، عمران و زرداری نے بھی کمر کس لی

تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی بھی احتجاج میں بھرپور شرکت کریں گی

لاہور : سربراہ پاکستان عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ ظالم حکمرانوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے 17 جنوری کے احتجاج میں ملک کی تمام جماعتیں شرکت کریں گی۔

وہ ماڈل ٹاؤن میں اپنے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، علامہ طاہر القادری کا کہنا تھا کہ یہ ملکی تاریخ کا پہلا احتجاج ہو گا جس میں پاکستان بھر کی سیاسی و مذہبی جماعتیں محض انصاف کے حصول کے لیے شرکت کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ 17 جنوری کو پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کا مقصد سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لواحقین کو انصاف دلوانا ہے جس کے لیے ہم وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے مستعفی ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے جب کہ 10 سال میں 11 ہزار ارب روہے کا بجٹ استعمال کرنے کے باوجود شہباز شریف کی حکومت زینب کے قاتل کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

طاہر القادری نے بتایا کہ شہباز شریف نے پولیس کو حکومتی خزانے سے 10 سال میں ساڑھے7 سو ارب مزید دیے لیکن ان

خطیر رقوم کو استعمال کرنے والی پولیس انسانوں کا شکارکر رہی ہے اور یا تو مظلوموں کا خون بہارہی ہے یا جاتی امراء اور شاہی خاندان کا تحفظ کرنے میں مشغول ہے۔

تحریک انصاف کا اظہار یکجہتی، احتجاج میں بھرپور شرکت کا اعلان 


دوسری جانب تحریک انصاف نے ماڈل ٹاؤن میں قتل عام کرنے والوں کیخلاف17جنوری کو ہونے والے احتجاج کے پیش نظر اسی دن ہونے والے اپنے پارلیمانی بورڈ کا طے شدہ اجلاس منسوخ کردیا ہے جب کہ چیئرمین عمران خان نے تحریک انصاف کے ذمہ داروں اورعلاقائی صدور کو احتجاج میں شرکت کی ہدایت کی ہے۔

خیال رہے پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس 16 جنوری کو اسلام آباد میں طلب کیا گیا تھا جو اب چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر منسوخ کردیا گیا ہے تاہم ابھی اجلاس کی نئی تاریخ کا تعین کیا گیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف کے ذمہ داروں نے احتجاج میں شرکت کے لیے حکمت عملی طے کرنا شروع کردی ہے۔

پیپلز پارٹی نے بھی احتجاج میں شرکت کے لیے کمر کس لی 


اسی طرح پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آصف زرداری اورعمران خان ایک ہی کنٹینر پر ہوں گے، 17 جنوری کے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں گے اور پنجاب کے حکمرانوں کوعہدہ چھوڑنے پر مجبورکردیں گے کیوں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک روزہ احتجاج کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے بلکہ یہ محض انصاف کے حصول کی ایک کوشش ہے جہاں تمام جماعتیں جسٹس باقر نجفی رپورٹ کی روشنی میں ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کریں گی اور اگر احتجاج کے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تو پیپلزپارٹی جواب دینا جانتی ہے۔

خیال رہے جون 2014 میں پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی دفتر واقع ماڈل ٹاؤن پر پولیس اور شرکاء کے درمیان جھڑپ میں درجن سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں بزرگ، بچے اور خواتین بھی شامل تھے، علا مہ طاہر القادری نے جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کی روشنی میں نے شہباز شریف اور رانا ثنا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے مستعفی ہونے سے انکار کرتے ہوئے موقف دہرایا تھا کہ رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین ہے تو اس پر عدالت کے ذریعے عمل درآمد کرایا جائے اور چوں کہ رپورٹ میں ایسی کوئی بات نہیں اس لیے طاہر القادری عدالت جانے کے بجائے احتجاج میں فرار کا راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top