The news is by your side.

Advertisement

آگرہ اور تاج محل دھول مٹی سے اَٹ گئے

بھارت کے شہر آگرہ کا تاج محل کل کی طرح‌ آج بھی دیدنی ہے اور ‌مغل شہنشاہ شاہ جہاں‌ کی ممتاز محل سے محبت کی کہانی شاید رہتی دنیا تک دہرائی جاتی رہے، لیکن اس عظیم الشان عمارت کے حُسن اور اس کی آب و تاب کے لیے فضائی آلودگی ایک بڑا خطرہ بن گئی ہے۔

بھارت کے شہر آگرہ میں لاک ڈاؤن ختم کیے جانے کے چند دنوں بعد ہی تاج محل کی عمارت دھول مٹی سے اَٹ گئی اور اس کا سفید سنگِ مرمر خراب ہونے لگا جس کا سبب مختلف اقسام کی زہریلی گیسیں اور تاج محل کے قریب جاری تعمیراتی کام ہے۔

آگرہ میں فضائی آلودگی کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے اور مقامی شہری سانس کی مختلف تکالیف، سینے کے امراض، آنکھ اور مختلف جلدی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، لیکن شہریوں‌ کا کہنا ہے کہ حکومت یا انتظامیہ کی اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوئی کوشش نظر نہیں‌ آرہی۔ مقامی شہریوں‌ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھول مٹی سے تاج محل کی عمارت ہی متاثر نہیں‌ ہورہی بلکہ اس فضا میں‌ سانس لینے والے ہر شخص کی صحّت کو خطرہ ہے۔

جہاں‌ تاج محل دنیا کے سات عجائبات میں سے ایک ہے، وہیں آگرہ کا بھارت کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں‌ نواں‌ نمبر ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس شہر میں‌ مختلف چھوٹے کارخانوں اور ہر قسم کے ٹریفک کے علاوہ تعمیرات کا سلسلہ بھی زوروں پر ہے جس کے سبب فضا میں دھول مٹی اور ہوا میں مختلف کثافتیں بڑھ گئی ہیں۔

بھارت کی تاریخی اور اہم یادگاروں کی حفاظت اور دیکھ بھال سے متعلق قائم کردہ کمیٹی کے چیئرمین سید منور علی کا کہنا ہے کہ تاج محل کی عمارت کو محفوظ رکھنے کے لیے اس سے ملحق راستوں پر 100 الیکٹرانک بسیں‌ چلائی جائیں‌ گی اور یہ ان گیسوں کے اخراج کا باعث نہیں‌ بنیں‌ گی جن کی وجہ سے تاج محل کا سفید سنگِ مرمر خراب ہو رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں