The news is by your side.

Advertisement

مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں، طالبان کا امریکی صدر ٹرمپ کو پیغام

واشنگٹن : طالبان نے امریکی صدر ٹرمپ کو پیغام دیا ہے کہ مذاکرات کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں ، ہم امید کرتے ہیں  مذاکرات سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق طالبان کے مرکزی مذاکرت کار شیر محمد عباس ستانکزئی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا امریکی صدر ٹرمپ کو پیغام دیا ہے کہ ہماری جانب سے مذاکرت کے لیے دروازے کھلے ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی مذاکرات سے متعلق اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا۔

یاد رہے8 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کردیے تھے۔ انہوں نے یہ اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کیا تھا۔

امریکی صدر نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کابل حملے کے بعد منسوخ کیے گئے ہیں جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، طالبان دوران مذاکرات غیرضروری بالا دستی چاہتے ہیں، طالبان جنگ بندی نہیں کرسکتے تو انہیں مذاکرات کا بھی کوئی اختیار نہیں ہے۔

بعد ازاں طالبان ترجمان نے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن مذاکرات ختم کرنے کے ٹوئٹس پر بہت حیرت ہوئی تھی، ہم امریکا کے مذاکرات کاروں سے امن معاہدہ مکمل کرچکے تھے۔

مزید پڑھیں : مذاکرات منسوخ ہونے کی توقع نہیں تھی، طالبان ترجمان

ترجمان کا کہنا تھا کہ سیز فائرمعاہدے پر دستخط کے بعد شروع ہوتا، ہم افغان مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں، افغان مسئلہ کا حل فوجی نہیں ہے۔

خیال رہے طالبان رہنما ملاشیر عباس نے رشین ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے امریکا پر نہیں امریکا نے افغانستان پر جنگ مسلط کی، وہ ہمارے ہزار لوگ مار سکتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے ایک دو مارنے کا حق ہے، اگر امریکا مذاکرات نہیں چاہتا تو ٹھیک ہے ہم سو سال تک بھی لڑسکتے ہیں۔

ملاشیرعباس نے مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں امن افواج کو محفوظ راستہ دینا چاہتے ہیں ہم جب بھی کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں امریکا مذاکرات سے فرار ہوجاتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں