The news is by your side.

Advertisement

طالبان کا طبی مراکز فعال رکھنے کے لیے سویڈش این جی او سے بات چیت کا عندیہ

کابل:افغانستان میں سویڈن کی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کی جانب سے رضاکاروں کو جان کی دھمکی ملنے کے پیش نظر طبی مراکز بند کرنے کے فیصلے کے بعد طالبان نے تنظیم کے ترجمان سے مذاکرات کا عندیہ دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے زیر اہتمام صوبہ میدان وردک میں رفاہی ادارے سویڈش کمیٹی کے تحت 42 طبی مراکز فعال ہیں، تاہم مسلح افراد نے ادارے کے رضاکاروں کو امدادی سرگرمیاں بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔

جنوبی افغانستان میں موجود تنظیم کے 42 طبی مراکز بند ہونے سے 6 ہزار افراد متاثر ہوں گے، تاہم این جی او کے ترجمان نے بتایا کہ افغان حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں تمام طبی مراکز معمول کے مطابق فعال رہیں گے۔

این جی او کی گروپ ڈائریکٹر سونی مانسن نے بتایا کہ طالبان نے طبی مراکز بند نہ کرنے کی صورت میں عملے کو جان سے مار دینے کی دھمکی دی تھی۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ صوبہ میدان وردک میں معاملے کے حل کے لیے مذاکرات کریں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے مذاکرات سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی۔اس ضمن میں این جی او نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں شہریوں، سماجی کارکنوں کا تحفظ تمام جنگی فریقین کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

اعلامیہ میں عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی، طبی و تعلیمی مراکز سمیت شہریوں پر حملے پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں