The news is by your side.

Advertisement

ٹیکسی میں سفر کرنے والے افراد ان اصولوں کے بارے میں جانیں

پاکستان میں تیزی سے مقبول ہوتی مختلف ٹیکسی سروسز نے ٹیکسی کو ذرائع آمد و رفت کا نہایت آسان ذریعہ بنا دیا ہے جو اسمارٹ فون رکھنے والے ہر شخص کی دسترس میں ہے۔

ہر ملک میں ٹیکسی ڈرائیور اور مسافر چند بین الاقوامی قوانین و اصولوں کے پابند ہوتے ہیں جن کا مقصد مسافر کی حفاظت، سہولت اور ڈرائیور کی جائز آمدنی کو یقینی بنانا ہے۔

آج ہم آپ کو ایسے ہی کچھ اصولوں سے آگاہی فراہم کر رہے ہیں جن کو اپناتے ہوئے آپ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچ کر اور مناسب رقم میں سہولت سے اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے۔


طویل راستہ

اکثر ڈرائیور حضرات کرایے کی رقم میں اضافے کے لیے طویل راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ڈرائیور کو اپنی منزل اور راستے کے بارے میں درست طور پر آگاہ کریں۔


ڈرائیور کا گفتگو کرنا ممنوع

ٹیکسی ڈرائیور کا مسافر سے گفتگو کا آغاز کرنا قابل سرزنش ہے۔ اگر آپ کا ٹیکسی ڈرائیور آپ سے بات کرنا چاہ رہا ہے اور آپ اس سے الجھن محسوس کر رہے ہیں تو آپ واضح طور پر اسے گفتگو کرنے سے منع کرسکتے ہیں۔

یہ اخلاقی اور قانونی طور پر بالکل درست ہے۔


آپ کا فون نمبر

گو کہ آئن لائن ٹیکسی سروس کے اکاؤنٹ میں آپ کا فون نمبر محفوظ ہوتا ہے تاہم اس بات کی طرف سے مطمئن ہوجائیں کہ وہ خفیہ ہوتا ہے اور اسے ڈرائیور یا کوئی اور شخص کسی بھی صورت میں (آپ کو سفری سہولیات فراہم کرنے کے بعد بھی) ہرگز استعمال نہیں کرسکتا۔


منزل کے بارے میں آگاہی

آن لائن ٹیکسی بک کرواتے ہوئے بعض افراد اپنی منزل کے بارے میں نہیں لکھتے جس سے ڈرائیور اس بات سے بے خبر ہوتا ہے کہ آپ کو کہاں جانا ہے۔

یہ عادت اس وقت پریشانی کا سبب بن سکتی ہے جب آپ کو کہیں دور جانا ہو، آپ نے اپنی منزل کا پتہ بتائے بغیر ڈرائیور کو بلا لیا، اور اب ڈرائیور نے اتنی دور جانے سے انکار کردیا۔

اس صورت میں آپ کا وقت بھی ضائع ہوگا اور یقیناً کچھ پیسے بھی دینے پڑ جائیں گے۔

دور کے سفر میں خاص طور پر اس بات کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ منزل کا پتہ ضرور لکھیں تاکہ آپ کو لینے کے لیے وہی ڈرائیور آئے جو اتنی دور جانے کے لیے تیار ہو۔


میٹر

بعض ٹیکسی ڈرائیورز آپ کی بلائی ہوئی جگہ پر پہنچتے ہی میٹر چلادیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ جتنا وقت ڈرائیور کو انتظار کروائیں گے اس وقت کی رقم بھی کرایے میں جمع ہوگی۔

میٹر کس وقت چلایا گیا ہے یہ جاننا تو مشکل ہے، تاہم اس سے بچنے کا بہترین حل یہی ہے کہ آپ ڈرائیور کو انتظار کروائے بغیر فوراً ہی ٹیکسی میں جا کر بیٹھ جائیں۔


بری ریٹنگ

ٹیکسی سروس کمپنیوں میں ڈرائیور حضرات کی نوکری کا انحصار آپ کی طرف سے دی جانے والی ریٹنگ پر بھی ہوتا ہے۔ کسی ڈرائیور کو اگر مستقل 4.7 سے کم ریٹنگ ملے تو اسے نوکری سے برخاست کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا کسی معمولی بات کو وجہ بنا کر کسی ڈرائیور کو خراب ریٹنگ دینے سے قبل ایک بار ضرور سوچیں۔ ان ریٹنگز کو معمولی مت سمجھیں، یہ واقعی کسی کی زندگی میں خرابی یا بہتری لانے کا سبب بن سکتی ہیں۔


آپ کی ریٹنگ

شاید آپ لا علم ہوں مگر بعض ٹیکسی سروسز میں ڈرائیورز بھی مسافر حضرات کو ریٹنگز دیتے ہیں۔ خود کو دی جانے والی ریٹنگ آپ اپنے ٹیکسی سروس کے اکاؤنٹ میں دیکھ سکتے ہیں۔

آپ کو دی جانے والی ریٹنگ کا انحصار دوران سفر آپ کے رویے پر ہوتا ہے۔ اگر آپ ڈرائیور کو بے جا انتظار کروا رہے ہیں، اس سے خراب لہجے میں بات کر رہے ہیں، یا راستہ بتاتے ہوئے تنگ کر رہے ہیں تو یقیناً آپ کو بری ریٹنگ دی جائے گی۔

تاہم اس ریٹنگ سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، خراب ریٹنگ کی بنیاد پر کوئی ڈرائیور آپ کو لینے سے انکار تو کرسکتا ہے، تاہم ایسے ڈرائیورز گنے چنے ہی ہوتے ہیں۔


مختصر راستہ

اگر آپ نے کسی ایسے مختصر راستے کے لیے ٹیکسی بلوائی ہے جسے آپ پیدل بھی باآسانی طے کرسکتے تھے تو یہ آپ کی پروفائل کو خراب کرسکتا ہے۔ ایسی صورت میں ڈرائیور اپنی مطلوبہ کمائی کا ہدف نہیں حاصل کرسکے گا اور آپ کو خراب ریٹنگ دے دے گا۔

تاہم بعض ٹیکسی کمپنیاں پہلے سے اپنے صارف کو آگاہ کرتی ہیں کہ ٹیکسی بلانے کی صورت میں کم سے کم راستہ کتنی مسافت کا ہونا چاہیئے۔


کمپنی کی سرزنش کریں

اگر آپ ٹیکسی سروس کے معیار یا کرایے سے مطمئن نہیں تو اس کی ذمہ دار کمپنی ہے، ڈرائیور نہیں۔ بعض کمپنیوں کے ڈرائیور صرف تنخواہ لینے کے وقت ہی دفتر جاتے ہیں لہٰذا کمپنی کے پیکجز یا دیگر قواعد و ضوابط سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اگر آپ کو اس سے کوئی شکایت ہے تو ڈرائیور سے بحث کرنے کے بجائے کمپنی کی ہیلپ لائن پر کال کی جاسکتی ہے۔


پیکس

اگر آپ باقاعدگی سے ٹیکسی میں سفر کرنے کے عادی ہیں تو آپ کا نام ’پیکس‘ ہے۔

بین الاقوامی معیار کے تحت ٹیکسی میں سفر کرنے والے مسافروں کو پیکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نام پائلٹس اور ٹیکسی ڈرائیور اپنے مسافروں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں