site
stats
پاکستان

طیبہ تشدد کیس بڑے مافیا کی کارستانی ہے، جج کا پولیس کوبیان

اسلام آباد : طیبہ تشدد کیس میں ملوث جج راجہ خرم علی اور اہلیہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بچی پرتشدد کا واقعہ بڑے مافیا کی کارستانی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ طیبہ کو رقم کے عوض گھر میں رکھا۔ جج نے کہا کہ معاملے کی خود انکوائری کروں گا اورحقائق سامنے لاؤں گا۔

تفصیلات کے مطابق طیبہ تشدد کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جج راجہ خرم علی اوران کی اہلیہ نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے طیبہ کو پیسوں کے عوض گھر میں رکھنے کا اعتراف کیا۔

جج نے بچی پرتشدد کے واقعہ کو بڑے مافیا کی کارستانی قرار دیا، جج نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ معاملے کی خودانکوائری کروں گا اورحقائق بھی سامنے لاؤں گا۔

مزید پڑھیں : طیبہ تشدد کیس: بچی سے بغیر اجازت ملاقات پر پابندی عائد

راجہ خرم علی نے بتایا کہ ڈیڑھ سال کے بیٹے کی دیکھ بھال کیلئے پیسے دیکر بچی کی کفالت لی، بچی کے والدین کو 12ہزار روپےادا کیے، میری بیوی رحم دل خاتون ہیں، بچی کو اپنے بچوں کی طرح رکھا۔

طیبہ تشدد کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف باقاعدہ انکوائری کا فیصلہ

انہوں نے کہا کہ  27 دسمبر کو جب بچی گم ہوئی تواگلے ہی روز 28 کو گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی، انہوں نے بتایا کہ بچی کا پڑوسی خضرحیات خان اور ماریہ حیات سے بھی رابطہ تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top