site
stats
پاکستان

طیبہ تشدد کیس، ایڈیشنل سیشن جج کو کام سے روک دیا گیا

اسلام آباد : مبینہ تشدد کی شکار کم سن ملازمہ طیبہ کیس میں ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی کی اہلیہ کی نامزدگی کی بناء پر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے راجہ خرم علی کو اپنے عہدے پر کام کرنے سے روک دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دس سالہ ملازمہ طیبہ کے مقدمے کی ملزمہ کے خاوند ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی کو ان کے عہدے پر کام کرنے سے روک دیا گیا ہے، راجہ خرم علی اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج ایسٹ کے طور فرائض انجام دے رہے تھے۔

اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے، کہا جا رہا ہے کہ یہ اقدام طیبہ تشدد کیس کی تحقیقات پر ممکنہ طور پر اثرانداز ہونے کے خدشے کی بنا پر کیا گیا ہے تاکہ مقدمے میں شفافیت برقرار رہے۔

letter-post-1

اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں راجہ خرم علی خان کو آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی مقرر کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ تین سال قبل بھی ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان کو اختیارات سے تجاوز کرنے پر معطل کردیا گیا تھا اور ایڈیشنل سیشن جج سے سرکاری خدمات واپس لے لی گئی تھیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top