The news is by your side.

Advertisement

عام کھانسی ہے یا کرونا کی علامت، اب موبائل ایپ بتائے گی

مانچسٹر: رعشہ کے مریضوں کا پتہ لگانے والی ایپ بنانے والے برطانوی نوجوان نے موبائل کے ذریعے کرونا مریضوں کی شناخت کے لیے ایپ بنانا شروع کردی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق اٹھارہ سالہ نوجوان مائیکل برائن ایک ایسی ایپ تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس کی مدد سے صارف کرونا کی علامات والے لوگوں کی موجودگی کا پتہ لگایا جاسکے گا۔

نوجوان کے مطابق اُسے چند کمپنیوں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ مائیکل برائن کا کہنا تھا کہ ’ایپ کے ذریعے کرونا کی موجودگی اور متاثرہ شخص کی موجودگی کے بارے میں معلومات فراہم کی جائے گی’۔

’ہماری ایپ پہلے سے موجود حالات کا سروے کرے گی جس میں موجودہ طبی حالات اور جغرافیائی محل وقوع کے اعداد و شمار شامل ہوں گے، مائیکرو فون کو ایپ سے جوڑا جائے گا جس کے ذریعے کھانسنے والے متاثرہ شخص کی باآسانی شناخت ممکن ہوسکے گی‘۔

اُنہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے چین کے معالجین سے بھی بات چیت ہوئی جو کھانسی کو کوویڈ کی تشخیص کے لیے اہم علامت کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

مائیکل کا خیال ہے کہ اس سے نہ صرف عوام کو آسانی ہوگی بلکہ ٹیسٹوں کے مسائل حل ہوجائیں گے اور حکومت کو عوام کا ڈیٹا جمع کرنے میں بھی مدد مل جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ایپ کے ذریعے صارف کا حاصل ہونے والا ڈیٹا حکومت کو دیا جائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم کرونا کے بارے میں بہت کم تو جانتے ہیں مگر یہ علم میں ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک شخص میں وائرس کی تشخیص ہوتی ہے اور ہر پچیس میں سے ایک مریض دم توڑ جاتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں