تحریک انصاف کے رہنما فوادچوہدری نے کہا ہے کہ تحریک انصاف مذاکرات کے معاملے پر یکسو ہے لیکن حکومت کی جانب سے مذاکرات پر کوئی سنجیدگی نہیں ہے۔
ٹوئٹر پر جاری بیان میں فوادچوہدری نے لکھا کہ مذاکرات آئین سے باہر نہیں ہو سکتے مذاکرات صرف آئین اور سپریم کورٹ کی مقرر کردہ حدود میں ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اور کےپی میں اگر انتخابات نہیں ہوتے تو یہ آئین کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے اسٹیٹ بینک کا ابھی تک فنڈز جاری نہ کرنا حکم عدولی کے زمرے میں آتا ہے۔
کسی بھی پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ لوگوں کو حق رائے دہی سے روک دے ایسی پارلیمان فسطائ حکومت کی بنیاد تو رکھ سکتی ہے کسی جمہوری نظام کا ایسی پارلیمان اور اس کے فیصلوں سے کوئ تعلق نہیں ہو سکتا، آئین اس ضمن میں واضع ہے کہ الیکشن کے اخراجات پر پارلیمان کو قدیم کا کوئ حق… https://t.co/hjmKOieOxA
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) April 17, 2023
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ وزیر اعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کرے توہین عدالت کارروائی کر کے ان کی عدالت کے ہاتھوں نااہلی کا شوق پورا کیا جائے۔
فوادچوہدری نے کہا کہ کسی بھی پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ لوگوں کو حق رائے دہی سے روک دے ایسی پارلیمان فسطائ حکومت کی بنیاد تو رکھ سکتی ہے کسی جمہوری نظام کا ایسی پارلیمان اور اس کے فیصلوں سے کوئ تعلق نہیں ہو سکتا، آئین اس ضمن میں واضع ہے کہ الیکشن کے اخراجات پر پارلیمان کو قدیم کا کوئ حق حاصل نہیں۔