site
stats
پاکستان

پی ٹی آئی کا جلسہ : عمران خان ایف نائن پارک پہنچ گئے، کارکنا ن پرجوش

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام پارٹی کے بیسویں یوم تاسیس کے سلسلے میں اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں پی ٹی آئی پنڈال تیار ہوگیا،جلسہ گاہ کو سبز ہلالی پرچموں اور پی ٹی آئی کے جھنڈوں سے سجایا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے چئیر مین عمران خان جلسہ گاہ پہنچ گئے۔  ان کے ہمراہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک ،جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی بھی جلسہ گاہ پہنچے ہیں۔

بنی گالہ سے جلسہ گاہ آتے ہوئے میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ آج اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کو لوٹنے کا موقع دو تو حکمرانوں کیلئے جمہوریت اچھی ہے اور جس دن حکمرانوں کی کرپشن پر ہاتھ ڈالا جائے تو ان کو  جمہوریت خطرے میں نظر آتی ہے۔

کپتان کو اپنے درمیان دیکھ کر کھلاڑی جوش میں آگئے ۔ خواتین ورکرز کی بڑی تعداد موجود تھی ۔ کچھ نے سیلفیاں بھی بنائیں،

جبکہ جلسے میں پارٹی ترانے اور ملی نغمے چلانے کا خصوصی طور پر اہتمام کیا گیا ہے، جلسے سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پاناما لیکس کے حوالے سے اہم خطاب کریں گے۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے ٹرمز آف ریفرنس بیان کریں گے اور جوڈیشل انکوائری کیلئے ڈیڈ لائن دیں گے، ذرائع کے مطابق عمران خان عوامی رابطہ مہم کا اعلان کریں گے۔

ایف نائن پارک میں پہنچنے والے پی ٹی آئی کے کھلاڑی کافی پُرجوش دکھائی دے رہے ہیں، جلسے میں لاہور، فیصل آباد، ملتان اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں سے قافلوں کی آمد جاری ہے۔

جلسے کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پولیس کے ساتھ رینجرز اہلکار بھی ڈیوٹی دیں گے۔

جلسے کی مانیٹرنگ کیلئے کنٹرول روم بھی بنایا گیا ہے۔ تحریک انصاف کا جلسہ کے حوالے سے اسلام آباد انتظامیہ نےسکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے۔ آٹھ ہزار سکیورٹی اہلکار فرائض سر انجام دیں گے ۔

خواتین کھلاڑیوں اور بچہ پارٹی بھی جلسے میں شرکت کیلئے جوق در جوق آرہے ہیں، جبکہ خواتین نے بھی بڑی تعداد نے پارٹی رنگ کی چوڑیاں پہنی ہوئی ہیں اور ساتھ ہی اس حوالے سے لباس بھی زیب تن کیا ہوا ہے۔

یوم تاسیس کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیلئے خصوصی طور پرپشاوری چپل تیار کی گئی ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top