The news is by your side.

Advertisement

پولیو مہم کے دوران پولیس اہلکار کو شہید کرنے والا دہشت گرد ہلاک

پشاور: خیبرپختونخواہ پولیس نے سوات میں کارروائی کرتے ہوئے بونیر میں پولیو رضاکاروں کی حفاظت ہر مامور اہلکار کو شہید کرنے والے دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے  خفیہ اطلاع ملنے پر سوات کے علاقے میں کارروائی کی جس میں تین روز قبل اغوا ہونے والے اہلکار کو بازیاب کرایا گیا جبکہ مقابلے کے دوران دہشت گرد مارا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد نے بونیر کے علاقے میں پولیو ٹیم پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار شہید ہوا تھا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل پشاور میں انسداد پولیو مہم کے پہلے دن پولیو ویکسین کے ری ایکشن کی شکایت پر چند بچوں کو اسپتال لایا گیا تھا، خبر پھیلنے پر بے شمار خوفزدہ والدین اپنے تندرست بچوں کو بھی اسپتال لے آئے۔ اس دوران مشتعل مظاہرین نے ڈی ایچ او اسپتال کی دیواریں گرا دی تھیں اور عمارت کو آگ بھی لگا دی تھی۔

مزید پڑھیں: چمن میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، خاتون پولیو ورکر جاں بحق

بعد ازاں خیبر پختونخواہ میں پولیو مہم کو ناکام بنانے کے لیے گھڑی گئی سازش اس وقت بے نقاب ہوئی جب سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو نے ڈرامہ طشت از بام کیا۔

ویڈیو میں ایک شخص بچوں کو زبردستی اسٹریچر پر لٹا کر بے ہوشی کا ڈرامہ کرواتا دکھائی دیا جبکہ ویڈیو میں بچے تندرست دکھائی دے رہے تھے۔ بچوں سے بے ہوشی کا ڈرامہ کروانے والے ملزم نذر محمد کو بعد ازاں بڈھ بیر پولیس نے گرفتار کر لیا تھا جبکہ انسداد پولیو مہم کےخلاف احتجاج کرنے والے 12 افراد کے خلاف پرچہ بھی درج کیا گیا۔

بعد ازاں بونیر میں نامعلوم دہشت گردوں نے پولیو ٹیم پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار شہید ہوا تھا، اگلے ہی روز بلوچستان کے علاقے چمن میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے خاتون پولیو رضا کار کو شہید کیا تھا، سیکیورٹی خدشات کی بنا پر انسداد پولیو مہم کو مؤخر کردیا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں