The news is by your side.

Advertisement

بلاول بھٹو نے پہلے تھر کول پاور پلانٹ کا افتتاح کردیا

تھر پارکر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھر میں 330 میگا واٹ بجلی گھر کا افتتاح کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے صحرائے تھر میں 330 میگا واٹ بجلی گھر کے افتتاح کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری تھر پہنچے۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ان کا استقبال کیا۔

بلاول بھٹو کو کان کنی کی سائٹ سے ری سیٹلمنٹ پالیسی پر بریفنگ دی گئی جس کے بعد وہ ری سیٹلمنٹ نئی سینگیری ولیج پہنچے، بلاول نے تھر کول فیلڈ کے متاثرین کے لیے تعمیر گھروں کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے انہیں بتایا کہ ہر 12 گھروں کے گروپ کو ایک کھیل کا میدان دیا گیا ہے۔ بلاول نے نئے گھروں کے مکینوں سے بھی ملاقات کی۔

بعد ازاں بلاول نے تھر کول فیلڈ بلاک 2 کا دورہ کیا اور اوپن پٹ مائن کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کان کنی کے کام کا معائنہ کیا اور اپنے موبائل سے کان کنی کی تصاویر بھی بنائیں۔ چیئرمین کو کان کنی سے متعلق بریفنگ بھی دی گئی، انہوں نے مزدوروں سے ملاقات کی اور کامیابی پر انہیں مبارکباد دی۔

بلاول بھٹو نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ بھی کیا۔

خیال رہے کہ تھر سے حاصل شدہ کوئلے سے بجلی بنانے کا کام اپریل 2016 میں شروع کیا گیا تھا، گزشتہ ماہ 19 تاریخ سے تھرکول سے بجلی کی پیداوار شروع ہوگئی اور 330 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کو فراہم کردی گئی۔

تھر میں مدفون کوئلے کی مقدار 175 ارب ٹن ہے اور ان ذخائر میں موجود توانائی پاکستان کے گیس کے مجموعی ذخائر سے 68 گنا زیادہ ہے، اس کی مالیت اندازاً پچیس کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔

اس وقت پاکستان میں بجلی کی طلب 25 ہزار میگا واٹ ہے تاہم ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کی خامیوں کی وجہ سے ایک وقت میں 21 ہزار میگا واٹ سے زیادہ بجلی کی ترسیل ممکن نہیں۔

ایک اندازے کے مطابق تھر میں موجود کوئلے کی مدد سے اگلے 200 سال تک ماہانہ ایک لاکھ میگا واٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ تاحال سندھ حکومت تھر کول کی رائلٹی تھر پر خرچ کرنے کی پالیسی وضع نہ کرسکی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں