اشتہار

وہ ملک جو دنیا سے 8 سال پیچھے اور سال میں 13 مہینے!

اشتہار

حیرت انگیز

سب کو معلوم ہے سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں لیکن ایک ملک ایسا بھی ہے جہاں سال میں 13 مہینے ہوتے ہیں اور وہ دنیا سے 8 سال پیچھے بھی ہے۔

عیسوی کلینڈر ہو، ہجری یا ہندو مت میں معروف بکرمی کلینڈر تمام مذاہب اور ثقافتوں میں سال کے 12 مہینے ہوتے ہیں لیکن دنیا کے خطے پر ایک ایسا بھی ملک ہے جہاں سال میں 13 مہینے ہوتے ہیں اور وہ موجودہ دور کے حساب سے دنیا سے 8 سال پیچھے بھی ہیں۔ آئیے جانتے ہیں اس بارے میں کچھ دلچسپ حقائق۔

یہ انوکھا ملک خطہ افریقہ میں واقعہ ایتھوپیا ہے۔ جو عیسوی کلینڈر کو تو مانتا ہے لیکن وہاں 12 کے بجائے سال میں 13 مہینے رائج ہیں اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وہ ملک دنیا بھر سے ایک یا دو دن نہیں بلکہ 8 سال پیچھے ہے وہ اس طرح کہ دنیا میں اس وقت سال 2023 ہے جب کہ ایتھوپیا میں ابھی 2015 چل رہا ہے جب کہ یہاں 21 ویں صدی کا آغاز بھی باقی دنیا کے 7 سال بعد یعنی 11 ستمبر 2007 میں ہوا تھا۔ یعنی اگر آپ نے پچھلے زمانے میں جانا ہے تو ٹائم مشین کی ضرورت نہیں آپ صرف ایتھوپیا چلیں جائیں۔

- Advertisement -

صرف مہینوں کی تعداد اور 8 سال پیچھے ہی نہیں اس ملک کا کلینڈر دنیا میں رائج عیسوی کلینڈر سے کچھ اور بھی مختلف ہے۔

دنیا بھر کے عیسوی مہینوں میں 7 ماہ 31 دن کے 4 ماہ 30 دن کے، فروری کا مہینہ 28 اور لیپ ایئر میں 29 دن کا ہوتا ہے لیکن ایتھوپیا میں 12 مہینے یکساں ایام یعنی 30 دن پر محیط ہوتے ہیں جب کہ 13 واں مہینہ 5 یا 6 دن پر مبنی مختصر ترین مہینہ ہوتا ہے اور اس کا انحصار لیپ ایئر پر ہوتا ہے

دنیا بھر میں نیا سال یکم جنوری کو جب کہ ایتھوپیا میں سال نو 11 ستمبر کو شروع ہوتا ہے اور لیپ ایئر میں 12 ستمبر کے دن نئے سال کا آغاز ہوتا ہے۔

اب ہم اس ملک میں کلینڈر مختلف ہونے کی وجہ بھی بتا دیتے ہیں کہ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی پیدائش کا سال عیسوی کیلنڈر کے آغاز کا سال تصور کیا جاتا ہے۔ تو جب 500 عیسوی میں کیتھولک چرچ نے کیلنڈر میں تبدیلیاں کیں تو ایتھوپیا کے آرتھو ڈوکس چرچ نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔

ہم پہلے ہی آپ کو بتا چکے ہیں کہ ایتھوپیا میں دنیا میں رائج عیسی کلینڈر بھی مانا جاتا ہے اور بیشتر شہری بیک وقت دونوں کلینڈرز کا استعمال کرتے ہیں تو اس ملک جانے والے غیر ملکی سیاحوں کو تاریخوں کے فرق سے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں