The news is by your side.

یورپی ملک نے روس کے آگے گھٹنے ٹیک دیے

توانائی کے بحران کا شکار ہونے کے بعد یورپی ملک بلغاریہ نے روس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور روسی ایندھن پر سے پابندی اٹھا لی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملک میں توانائی کے شدید بحران کے بعد بلغاریہ نے روسی ایندھن پر یورپی یونین کی پابندیوں پر سے عارضی طور پر پابندی اٹھا لی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بلغاریہ کی قومی پریس سروس نے کابینہ کے اجلاس کے بعد اطلاع دی ہے کہ توانائی کی کمی کا شکار بلغاریہ کے نے روسی ایندھن پر یورپی یونین کی پابندیوں کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دے گا اور آٹو موٹیو فیول فراہم کرنے والی روسی کمپنیاں ملک میں قلت کے باعث 2024 کے آخر تک پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

اس حوالے سے بلغاریہ نے 10 اکتوبر 2022 کے بعد روسی فیڈریشن سے آٹوموٹیو فیول سپلائرز کے ساتھ نئے ریاستی معاہدوں اور فریم ورک کے معاہدوں کو مکمل کرنے کی اجازت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک یورپی ملک نے روس کا اہم مطالبہ مان لیا

اطلاعات کے مطابق بلغاریہ کے اداروں اور موٹر ایندھن کی ضرورت والے دیگر کارخانوں کے معمول کے کام کو یقینی بنانے کی ضرورت کی وجہ سے روسی ایندھن کے لیے خصوصی استثنا متعارف کرایا گیا ہے اور بلغاریہ کے شہریوں کی زندگی، صحت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے یہ پابندی 31 دسمبر 2024 تک ملتوی کی گئی ہے جو اس مدت کے مکمل ہونے کے بعد دوبارہ نافذ ہونے کا امکان ہے.

واضح رہے روس کے یوکرین میں فوجی آپریشن کے بعد یورپ اور مغربی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کردی تھیں جن میں روس کے مالیاتی ارادوں، روسی مصنوعات، روسی شہریوں کے ملک داخلے پر پابندی سمیت روسی توانائی پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں تھیں، تاہم اب یورپ میں توانائی کے بحران کو دیکھتے ہوئے یورپی ممالک روس کی توانائی پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں