The news is by your side.

Advertisement

حرکت قلب 45 منٹ تک تھمی رہی، مردہ قرار دیا شخص 2 دن بعد زندہ

واشنگٹن: امریکا میں قدرت کا ایسا کرشمہ دیکھنے میں آیا کہ جہاں ایک ہائیکر کی حرکت قلب 45 منٹ تک رکی رہی لیکن وہ معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔

دل کی دھڑکن اگر چند منٹ کے لیے رک جائے تو انسان کا زندہ بچنا لگ بھگ نہ ممکن ہوتا ہے لیکن امریکی ہائیکر کی حرکت قلب پینتالیس منٹ تک تھمی رہی اور ڈاکٹروں نے ابتدائی طور پر اسے مردہ بھی سمجھ لیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق امریکا میں ماؤنٹ رینییر نیشنل پارک میں 45 سالہ مائیکل کناپینسکی نامی ہائیکر کو 8 نومبر کو ایک پہاڑ کے دامن میں بہنے والے ایک دریا میں بے حس و حرکت دریافت کیا گیا تھا لیکن اس وقت شہری کی نبض چل رہی تھی تاہم تھوڑی ہی دیر بعد حرکت قلب رک گئی جس پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ سمجھ لیا۔

فوٹو بشکریہ سیئٹل ٹائمز

بعدازاں کچھ ڈاکٹروں کو ہائیکر میں زندگی کی امید سوجھی اور منفرد طریقہ اپناتے ہوئے مریض کو ایک ای سی ایم او مشین سے جسم کو منسلک کردیا گیا، تھوڑی دیر بعد اس مشین سے ہائیکر کے جسم سے خون باہر آیا۔

— رائٹرز فوٹو

ڈاکٹروں نے اس خون سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کرکے پھر سے جسم میں منتقل کردیا، اس پورے علاج کے دوران ہائیکر کے دل کی دھڑکن 45 منٹ تک بعد رہی، دو دن بعد معجزانہ طور پر مریض کو ہوش آگیا۔

علاج کرنے والی ٹیم میں شامل ایک خاتون ڈاکٹر نے بتایا کہ مریض کو مردہ سمجھ کر ہم سب رو رہے تھے، ہمیں یقین نہیں تھا کہ وہ اچانک ڈرامائی انداز میں ہوش میں آجائے گا۔

خیال رہے کہ مائیکل کناپینسکی اپنے ایک دوست کے ساتھ 7 نومبر کی صبح برفانی چوٹی پر گئے تھے جو اس نیشنل پارک کی جنوبی نشیب تک جانا چاہتے تھے، تھوڑے فاصلے کے بعد دونوں دوست الگ ہوگئے، اس دوران مذکورہ ہائیکر شدید ٹھنڈ کے باعث حالت بگڑ جانے سے بے ہوش ہوگئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں