The news is by your side.

Advertisement

جزیرہ عرب دریاؤں کی سرزمین؟ بڑا دعویٰ

ریاض: سعودی ماہر طبقات الارض نواف بن صلبی الشمریٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ عرب زمانہ قدیم میں دریاؤں کی سرزمین ہوا کرتا تھا جو خشک ہوگئے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ماہر طبقات الارض نے انکشاف کیا ہے کہ جزیرہ عرب کا بیشتر حصہ ماضی میں ریگستانوں پر مشتمل نہیں تھا بلکہ یہاں بڑا دریا بہتا تھا جو بعد میں خشک ہوکر مٹ گیا۔

نواف بن صلبی الشمری کا کہنا ہے کہ لاکھوں برس قبل یہ جزیرہ عرب قطب جنوبی سے بے حد قریب تھا، شواید سے پتا چلا کہ یہ دریاؤں کی سرزمین تھا، وقت گزرنے کے ساتھ جزیرہ عرب کا محل وقوع قطب جنوبی سے ہٹ کر موجودہ مقام پر آگیا، ہر سال اب بھی کئی میٹر کے حساب محل وقوع قطب جنوبی سے کٹ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کرہ ارض ایک سے زیادہ بار برفانی دور سے گزری، تدریجی طور پر محل وقوع تبدیل ہوا۔

نواف نے حیران کیا کہ طبقات الارض کے علم میں ایم فل کے مقالے کی تیاری کے دوران یہ سب باتیں سامنے آئیں۔ جزیرہ عرب میں بہنے والے ایک عظیم دریا کا بڑا حصہ سعودی عرب میں تھا جس کا ‘ڈیلٹا’ مملکت اور کویت کے شمال مشرق میں واقع تھا۔ یہ دریا 90 ہزار مربع کلو میٹر کے دائرے پر پھیلا ہوا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قدیم دریا کا آبی مرکز مدینہ منورہ، قصیم، حائل اور عفیف کے درمیان واقع تھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی چھوٹے بڑے دریا بہتے تھے جو موسمیاتی تبدیلی اور دیگر سنگین ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر ختم ہوگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں