The news is by your side.

26 سال سے جنگل میں اکیلا رہنے والا ’’آخری قبائلی‘‘ چل بسا

جنوبی امریکا کے ایمیزون کے جنگلات میں 26 سال سے تنہا زندگی گزارنے والا اور مین آف دی ہول کہلانے والا آخری قبائلی شخص چل بسا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق اس شخص کی لاش ایمازون کے جنگلات سے ملی ہے جو گزشتہ 26 سالوں سے برازیل کی رونڈونیا اسٹیٹ کے ایمازون جنگل میں اکیلا رہ رہا ہے اور اس دوران اس کی نہ کسی انسان سے ملاقات ہوئی اور نہ ہی کسی کا اس سے براہ راست رابطہ تھا۔ اسے ’مین آف دی ہول‘ کا نام اس لیے دیا گیا تھا کیونکہ اس کی گڑھا کھود کر جانوروں کو پکڑنے اور خود ان گڑھوں میں چھپنے کی عادت تھی۔

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

اس شخص کی آخری ویڈیو سال 2018 میں جاری ہوئی تھی جس میں اسے ایمازون کے جنگل میں درخت کاٹتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس قبائلی شخص کے خاندان کے دیگر افراد زمینوں پر قبضہ کرنے والے گروہ اور مویشی پالنے والے مقامی لوگوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے جس کے بعد سے یہ شخص اکیلا ہی جنگل میں رہتا رہا ہے۔ اس کا نام بھی کسی کو معلوم نہیں اور نہ ہی کسی کو اس کے بارے میں زیادہ معلومات ہیں۔

ایک امریکی چینل کی ویب سائٹ کے مطابق اس قبائلی شخص سے آج تک کسی کا کوئی براہ راست رابطہ تو نہیں تھا لیکن انتظامیہ اس کی دور سے مانیٹرنگ کرتی تھی اور اس کے لیے وہاں استعمال کی اشیا چھوڑ دی جاتی تھیں۔

پولیس کے مطابق مذکورہ قبائلی شخص کی قدرتی موت ہوئی ہے اور اس کی لاش کا فرانزک معائنہ کرایا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں