The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں سورج کو گرہن لگ گیا

اس سال 6 گرہن ہونے ہیں، 4چاند گرہن اور 2سورج گرہن: فوادچوہدری

اسلام آباد: پاکستان میں سورج گرہن اختتام پذیر ہوگیا، صبح 11 بجے کے بعد سے گرہن اپنے عروج پر دیکھا گیا، کچھ علاقوں میں جزوی اور کہیں مکمل طور پر روشنی کا ہالہ نظر آیا، سکھر اور گوادر میں رنگ آف فائر بنا۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 26 منٹ پر ہوا، جبکہ 10 بج کر59منٹ کے بعد گرہن اپنے نقطہ عروج پر پہنچا، جو 12 بج کر 46منٹ پر اختتام پذیر ہوگیا، گرہن کا دورانیہ 3 گھنٹہ 17 منٹ رہا۔ جو پاکستان سمیت کئی ممالک میں دیکھا گیا۔

سورج گرہن کا نظارہ پاکستان سمیت ایشیا کے زیادہ ترحصوں میں دیکھا گیا۔ سورج گرہن کا آسٹریلیا، افریقہ، یورپ، جنوبی امریکا سمیت دیگر حصوں میں بھی نظارہ کیا گیا۔

’رنگ آف فائر‘ یعنی آسمان پر سورج کے گرد آگ سے بنے دائرے جیسا منظر سکھر اور گوادر میں دیکھا گیا۔

نماز کسوف کی ادائیگی

ملک کے مختلف شہروں میں سورج گرہن کے موقع پر نماز کسوف ادا کی گئی، مختلف مساجد میں خصوصی طور پر نماز کسوف کا اہتمام کیا گیا ہے شاہی جامع مسجد پرانا سکھرمیں اہل علاقہ کی جانب سے نماز کسوف ادا کی گئی۔

اسی طرح کراچی، لاہور، حیدرآباد، راولپنڈی، پشاور اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں نماز کسفود ادا کی گئی، اور لوگوں نے اللہ سے خصوصی دعا اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کی۔

سورج گرہن کےدوران کی جانے والی عبادت اور احتیاطی تدابیر

انولرسورج گرہن اس سے قبل گزشتہ سال دسمبر میں 80فیصد دیکھا گیا تھا، مکمل سورج گرہن اس سے قبل اگست1999میں ہوا تھا، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ سورج گرہن کو براہ راست نہ دیکھیں، سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے مخصوص حفاظتی چشمہ استعمال کیا جائے،  خصوصی طور پر تیار کردہ فلٹر استعمال کیا جائے۔

سورج گرہن سے متعلق ماہرین کی رائے اور شہریوں کو خصوصی ہدایات

وفاقی وزیرسائنس اینڈٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سورج گرہن کو براہ راست نہیں دیکھنا چاہیے، سورج گرہن کے دوران نکلنے والی شعائیں بینائی متاثر کرسکتی ہیں، سورج گرہن کے دوران احتیاطی تدابیر پر عمل بہت ضروری ہے، جب انسان کا علم بہت محدود تھا تو تو ہم پرستی بھی عروج پر تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پسندآنے والی چیز خوش قسمتی، جس سے خوف آئے اسے عذاب سے جوڑا جاتا تھا، گرہن بھی ایساہی عمل تھا، اب سائنس نے گرہن کی قلعی کھول دی ہے، اس سے جڑی توہم پرستی کی کہانیاں بھی آخری سانسیں لے رہی ہیں، اس سال 6گرہن ہونے ہیں، 4چاندگرہن اور 2سورج گرہن، اس سال کا دوسراگرہن14دسمبر کو ہوگا۔

وزیر نے بتایا کہ 14 دسمبر کو لگنے والا گرہن پاکستان میں نہیں دیکھا جا سکے گا، آج مکمل سورج گرہن سکھر اور گردو نواح میں ہے، باقی علاقوں میں جزوی سورج گرہن ہے۔

ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ پلینٹری اسٹروفزکس (اسپا) پروفیسر محمد جاوید کا بھی یہی کہنا تھا کہ سورج گرہن کو براہ راست نہیں دیکھناچاہیے، سورج گرہن کو دیکھنے کے لیے خاص چشمہ استعمال کیا جاتا ہے، خاص چشمے میں فلٹر لگا ہوتا ہے جس سے سورج گرہن دیکھا جاتا ہے۔

ادھر چیف میٹ سردارسرفراز نے بتایا کہ رنگ آف فائر صرف سکھر شہر میں بنتا ہوا نظر آئےگا، عام سن گلاسس سے سورج گرہن کو نہیں دیکھنا چاہیئے، سکھر اور گوادر میں رنگ آف فائر کا نظارہ دیکھا جاسکے گا۔

مفتی منیب الرحمان نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ سورج اور چاند گرہن کا مشاہدہ کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، سورج اور چاند گرہن کے درمیان زمین حائل ہوجائے تو اسے سورج گرہن کہتے ہیں، سورج گرہن کے حوالے سے بیان کی جانے والی کہاوتیں درست نہیں ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں