اقتصادی پابندیاں، ایران امریکی اداروں کے لیے خطرہ بننے لگا: Cyber Attack
The news is by your side.

Advertisement

اقتصادی پابندیاں، ایران امریکی اداروں کے لیے خطرہ بننے لگا

تہران: امریکی اقتصادی پابندیوں کے ردعمل میں ایران امریکا کے سرکاری اداروں کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی پابندیوں کے ایکزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں، جبکہ انتقام لینے کے لیے ایران امریکی اداروں پر سائبر حملے کرسکتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے جواب میں ایران سائبر اٹیک کر سکتا ہے، امریکا میں ایسے ممکنہ حملوں کے خدشات رواں برس مئی سے بڑھنا شروع ہوئے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی کمپیوٹر ماہرین اور ہیکرز اس قدر مہارت حاصل کر چکے ہیں کہ اُن کی مہارت اور چابکدستی امریکی اداروں کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان بنا چکا ہے۔

ماہرین نے اس بات کی طرف نشاندہی کی ہے کہ انٹرنیٹ پر ان دنوں ہیکنگ سے متعلق سرگرمیاں پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیکھی جارہی ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے بھی اپنا ڈیٹا محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات تیز کردیے ہیں، اور خصوصی طور پر ایسے سائبر حملوں سے متعلق نظر رکھی جارہی ہے۔


ڈونلڈ‌ ٹرمپ نے ایران پر اقتصادی پابندیاں‌ عائد کردیں


قبل ازیں 2012 اور 2014 میں بھی امریکا میں سائبر حملے ہوئے تھے جس کا ذمہ دار امریکا نے ایران کو ٹہرایا تھا، مذکورہ حملے سے امریکا کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔

واضح رہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں سے متعلق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پابندیوں کے بعد ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات سنگین نتائج کے ہوں گے، ایران کو رویہ تبدیل کرکے عالمی طاقتوں سے دوبارہ مذاکرات کرنا ہوں گے، نئے معاہدے میں ایرانی حکومت کی تمام منفی سرگرمیوں کا مکمل احاطہ ہوگا۔

یاد رہے کہ 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر بارک اوباما اور ایرانی حکومت کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا جس کے سبب ایران پر سے معاشی پابندیاں ختم کردی گئی تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں