The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسین کی تیسری خوراک پر غور

واشنگٹن: امریکی دوا ساز کمپنی فائزر نے اعلان کیا ہے کہ وہ کرونا ویکسین کی تیسری خوراک کے لیے نگران اداروں سے اجازت لے رہے ہیں، ویکسین کی تیسری خوراک سے اینٹی باڈیز کی سطح پہلی دو خوراکوں کے مقابلے میں پانچ سے دس گنا بڑھ جاتی ہے۔

بین الاقومی ویب سائٹ کے مطابق امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن بائیو ٹیکنالوجی کمپنی بائیو این ٹیک نے اعلان کیا ہے کہ کرونا ویکسین کی تیسری خوراک کے لیے نگران اداروں سے اجازت لے رہے ہیں۔

کمپنیوں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ویکسین کے جاری ٹرائل سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ وائرس کی ابتدائی قسم اور بعد میں افریقہ میں پائے جانے والے بیٹا ویرینٹ کے خلاف ویکسین کی تیسری خوراک سے اینٹی باڈیز کی سطح پہلی دو خوراکوں کے مقابلے میں پانچ سے دس گنا بڑھ جاتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے مزید واضح ڈیٹا سائنسی جرنل میں شائع کیا جائے گا اور امریکی فوڈ اور ڈرگ اتھارٹی کے علاوہ یورپی میڈیسن ایجنسی اور دیگر نگران اداروں کو بھی بھیجا جائے گا۔

کمپنیوں کے خیال میں ویکسین کی تیسری خوراک تیزی سے پھیلنے والے ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہوگی۔

فائزر اور بائیو این ٹیک احتیاطاً ایسی ویکسین بھی تیار کر رہے ہیں جو بالخصوص ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف تحفظ فراہم کرے گی، اس مخصوص ویکسین کی پہلی کھیپ جرمنی کے شہر مینز میں قائم بائیو این ٹیک کے پلانٹ میں تیار کی جا رہی ہے۔

کمپنیوں کا کہنا ہپے کہ نگران اداروں سے اجازت ملنے پر ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز اگست میں شروع کیے جائیں گے۔

اسرائیل میں ویکسین لگوانے کے 6 ماہ بعد اس کی افادیت میں کمی ظاہر ہوئی تھی، جس کی بنیاد پر کمپنیوں نے کہا کہ مکمل ویکسی نیشن کے چھ سے بارہ ماہ بعد تیسری خوراک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ویکسین لگوانے کے 6 ماہ تک شدید بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم ہوتا ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علامتی بیماریوں اور وائرس کی نئی نئی اقسام کے خلاف افادیت میں کمی واقع ہوتی جاتی ہے۔

ایف ڈی اے اور بیماریوں پر قابو پانے والے امریکی سینٹر کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تیسری خوراک کی ضرورت کے حوالے سے حکام جائزہ لے رہے ہیں۔

مشترکہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ جن امریکی شہریوں کی مکمل ویکسی نیشن ہو چکی ہے انہیں تیسری خوراک کی ضرورت نہیں ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر ہم اضافی خوراک کے لیے تیار ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں