The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد سمیت پانچ شہروں میں 13فیصد طلبہ کے منشیات کا عادی ہونے کا انکشاف

اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کا اجلاس میں اسلام آباد سمیت پانچ شہروں میں تیرہ فیصد طلبہ کے منشیات کا عادی ہونے کا انکشاف کیا گیا ، جس کے بعد تعلیمی اداروں میں منشیات روکنے کے لیے آئندہ اجلاس میں چیف کمشنر اسلام آباد اوراینٹی نارکوٹکس حکام کوطلب کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کا اجلاس ہوا، جس میں تعلیمی اداروں میں منشیات سے متعلق وزارت صحت کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی اور بتایا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے اسلام آباد سمیت پانچ شہروں کا سروے کیا گیا ۔

ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ کے مطابق سروے کے مطابق نو اعشاریہ دو فیصد طلبا اور چار اعشاریہ فیصد طالبات منشیات استعمال کر رہی ہیں، سروے غیر سرکاری تنظیم گلوبل یوتھ سروے نے کیا ۔

کمیٹی کی ممبر خالدہ پروین نے کہا تعلیمی اداروں میں منشیات کا بے دریغ ہو رہا ہے۔

وزارت کیڈ کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے تین ماڈل کالجز اور تین ماڈل اسکولز میں منشیات کا استعمال عام ہے۔


مزید پڑھیں : نجی تعلیمی اداروں کے نصف سے زیادہ بچے سرعام منشیات کا استعمال کرتے ہیں، رپورٹ


اس سے قبل بھی سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں اینٹی نارکوٹکس حکام نے انکشاف کیا تھا کہ نجی تعلیمی اداروں کے نصف سے زیادہ بچے اسکولوں میں ہی سرعام منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔

سیکرٹری اینٹی نارکوٹکس نے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بتایا کہ امیر شہریوں کے زیادہ تر بچے نشے کے عادی ہیں، پارٹیوں میں کوکین اورہیروئن کا نشہ کیا جاتا ہے، منشیات کے عادی بچوں کو اساتذہ یا ان کے ساتھی بچے منشیات فراہم کر رہے ہیں، انتالیس سال تک کی عمر کے ساٹھ لاکھ سے زائد افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں