پلاسٹک سے بنی اشیا ہمارے کچن اوردیگر معاملات میں خوفناک طریقے سے سرایت کرچکی ہیں جبکہ صحت کے ماہرین سے انسانی جسم کے لئے نہایت خطرناک قراردے چکے، ایسا کیا عمل اپنایا جائے کہ یہ ضرورت ختم ہوجائے۔
کچھ ایسی عادات ہیں جن کے استعمال سے ہم آہستہ آہستہ پلاسٹک کی ضرورت سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
پلاسٹک ٹوتھ برش کو الوداع
صبح اٹھتے ہی سب سے پہلی چیز جو آپ اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں وہ ٹوتھ برش ہوتا ہے
ایک محتاط رپورٹ کے مطابق ہر سال 4.7 بلین پلاسٹک کے ٹوتھ برش لینڈ فلز میں پائے جاتے ہیں، تو کیوں نہ ٹوتھ برش سے اس کی شروعات کی جائے، آپ خاندان کے ہر فرد کے لیے بانس سے بنے سادہ ٹوتھ برش لینے کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے یا پھر نیم کے مسواک بھی اچھا متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔
شیشے یا اسٹیل کی بوتل کا استعمال
پلاسٹک کے بوتل سے چھٹکارہ پانے کا سب سے آزمودہ طریقہ ہم نے والدین سے سیکھا ضرور ہے مگر اسے وقت کی تیز رفتاری کے باعث اسے فراموش کر بیٹھے۔اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے بیگ میں ہمیشہ ایک بوتل (اسٹیل یا شیشہ) ساتھ رکھیں تاکہ جب بھی ہمیں پیاس لگے ہم دکان سے پلاسٹک کی بوتل خریدنے کے نجائے بیگ میں رکھے پانی کو پئیں، یہ طریقہ پلاسٹک آلودگی کو کم کرنے میں نہایت معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
کھانے میں پلیٹ کا استعمال
پلاسٹک آلودگی کا سب سے بڑا پھیلاؤ فومک شیٹ سے بنی پلاسٹک پلیٹس ہیں جو تیزی سے ہماری زندگی میں شامل ہوچکی جو کہ فینسی اور دلکش نظر آتی ہیں ، اب بھی وقت ہے کہ اس عفریت سے چھٹکارہ پانے کے لئے اپنے بیگ میں اسٹیل کی پلیٹ کو ساتھ رکھیں، اسٹیل کے برتن بھی فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔
پلاسٹک اسٹرا کو ترک کردیں
پلاسٹک اسٹراز کو ری سائیکل کرنا بہت مشکل عمل ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ زیادہ تر ماحولیاتی آلودگی کا ہی حصہ بنتے ہیں، ایک تحقیقی سروے کے مطابق ہر سال 8.3 بلین سے زیادہ پلاسٹک کے اسٹرا استعمال ہوتے ہیں۔اس سے چھٹکارہ پانے اور آلودگی کو ختم کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنے بیگ، دفاتر میں اسٹیل کا اسٹرا ساتھ رکھیں جوکہ باآسانی بازار میں دستیاب ہیں۔
اس طرح آپ چھوٹے چھوٹے اقدام سے ہم اپنی زمین کو پلاسٹک آلودگی کے طوفان سے بچا سکتے ہیں۔