site
stats
بزنس

ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

Tomato prize

لاہور: ٹماٹروں کی قلت اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا‘ درخواست گزار نے قلت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے ‘ جس میں ٹماٹر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور قلت کو مصنوعی قرار دیتےہوئے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ٹماٹر ہر گھر کی ضرورت ہے ‘ تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ٹماٹر کی مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب شہری 300روپے فی کلو ٹماٹر خریدنے پر مجبور ہیں ۔

ایڈوکیٹ اظہر کا کہنا تھا کہ عام استعمال کی چیز ٹماٹراب عوام کی قوتِ خرید سے باہر چکا ہے ۔ درخواست گزار کے مطابق بااثر افراد نے مصنوعی قلت پیدا کر کے ٹماٹر کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کر دیا ہے جو بنیادی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ حکومت عوام کو خوراک کی اشیا مناسب داموں فراہم کرنے کی پابند ہے ‘ مگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی لہذا عدالت ٹماٹر کی قلت کی انکوائری کر کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کا حکم دے۔

بھارت میں ٹماٹروں کی حفاظت کے لیےسیکیورٹی گارڈزتعینات*

یاد رہے کہ بھارت سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد سبزیاں ایران سےمنگوانے کے باوجود سبزیوں کی قیمتوں میں کمی نہ ہوئی، پیاز اور ٹماٹر کی قیمتیں تاحال قابو میں نہ آسکیں۔

ملک بھر میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں بدستور آسمان پر ہیں، محرم کی تعطیلات کے باعث سپلائی نہ ہونے سے ایک بار پھر سبزیوں کی قیمتیں آسمان پر جا پہنچیں، متعلقہ حکام بھی پیاز اور ٹماٹر کے بحران پر قابو پانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب پڑوسی ملک بھارت میں اندورکی سبزی منڈی میں چھ مسلح گارڈز تعینات کیےگئے ہیں تاکہ ٹماٹروں کی حفاظت کرجاسکے‘ خاص طور پر اس وقت جب ٹماٹر ٹرک سے اتارے جا رہے ہوں۔

خیال رہے کہ مدھیا پردیش میں کئی ایسے واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں جہاں چور کئی ٹن ٹماٹر لوٹ کرفرارہو گئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top