site
stats
پاکستان

شہرقائد میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اورپولیس کی من مانیاں

کراچی: شہر قائد میں ٹریفک حادثات میں اضافہ ہور ہا ہے، شہری اپنے پیاروں سے محروم ہورہے ہیں لیکن ٹریفک پولیس چالان کرنے کے بہانے اپنی جیبیں گرم کرنے میں مصروف ہے‘ کراچی میں ہر سال ہزاروں حادثات ہوتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں آئے روز حادثات تیزی سے بڑھتے جارہے ہیں، حادثات میں اپنی قیمتی جانوں سے محروم ہونے والوں میں زیادہ تر افراد کا تعلق متوسط طبقے سے ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ شہرِ قائد میں ہر سال 30 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں جن میں سینکڑوں لوگ اپنی جان کی بازی ہارجاتے ہیں۔

post-1

غریب طبقے سے تعلق رکھنے والوں میں بہت سے افراد گھر کے واحد کفیل بھی ہوتے ہیں جبکہ ان لوگوں کا ذکر بھی سامنے آیا ہے جو والدین کی اکلوتی اولاد یا بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہوتے ہیں۔

تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ بے ہنگم ٹریفک رش اور برق رفتار زندگی نے حادثات کو جنم دیا ہے، شہر قائد میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ بس اور کوچ والے مسافروں کو بسوں کی چھتوں پر بلا خوف بٹھا کر لے جاتے ہیں اور ٹریفک پولیس اہلکار ان کو روکنے کے بجائے ان سے ہاتھ ملا کر رشوت مل جانے پر خاموش ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔

post-2

دوسری جانب شہری بھی ٹریفک اہلکاروں کی عدم موجودگی میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنے کے بجائے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ حادثات رونما ہونے کی بڑی وجہ ظاہر کرتا ہے۔

یہی حال مسکن چورنگی گلشن اقبال، الآصف اسکوائر اور صدر کا ہے، جہاں ٹریفک کا بے پناہ رش ہونے کے باوجود ٹریفک پولیس کے اہلکار ڈیوٹی سر انجام دینے کے بجائے اپنی ڈیوٹیاں غریب عوام کو تنگ کرکے انجام دے رہے ہوتے ہیں۔

کم عمر اور ناتجربہ کار ڈرائیور بھی حادثات میں اضافے کا باعث ہیں، ٹریفک پولیس اہلکار صرف ان کا چالان کرنے تک محدود ہوتے ہیں یا پھر اپنی جیبیں بھرنے کے لیے رہ گئے ہیں۔

post-3

حادثات روز بروز بڑھتے جارہے ہیں لیکن ان پر قابو پانے کے لیے حکومت یا ٹریفک پولیس کوئی کردار ادا کرتی نظر نہیں آتی ہے۔

ٹریفک پولیس اہلکاروں کا تو یہ کام رہ گیا ہے کہ غریب سبزی والے اور ٹریلر یا ٹرک والوں کو سائیڈ میں روک کر ان سے کاغذات اور لائسنس کے بہانے رشوت طلب کی جاتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ شہر میں بڑھتے ہوئے حادثات کی روک تھام کے لئے ٹریفک قوانین کی پابندی کے حوالے سے کوئی آگاہی پروگرام مرتب کریں تاکہ شہریوں میں ٹریفک قوانین کے حوالے سے معلومات میں اضافہ ہوسکے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top