دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جرائم کی سرکوبی کیلیے سراغ رساں کتوں کی صلاحیت سے استفادہ لیا جاتا ہے، جس کیلیے انہیں خصوصی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
دہشت گردی کا واقعہ ہو، منشیات تلاش کرنی ہو یا کسی لاپتہ شخص کو ڈھونڈنا ہو اس کیلیے پولیس کی جانب سے سراغ رساں کتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس سلسے میں سندھ پولیس کی اسپیشل برانچ ان کتوں کو خصوصی تربیت دیتی ہے، کراچی میں کے نائن نامی یونٹ سندھ پولیس کا خصوصی یونٹ ہے جس میں سراغ رساں کتوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
اس حوالے سے کے نائن یونٹ کے ٹرینر نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس 40سراغ رساں کتے ہیں جن میں لیبرا ڈار، روڈ ویلر جرمن شیفرڈ اور دیگر نسلوں کے قیمتی کتے شامل ہیں۔
View this post on Instagram
ان کتوں کو تربیت دینے کیلیے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے اگر کتے کو صرف نارکوٹکس پر ہی لگا دیا جائے تو وہ صرف منشیات کی ہی کٹیگری میں کام کرے گا۔
یہ کتے انتہائی تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور صورت حال کے حساب مختلف قسم کی خدمات انجام دیتے ہیں جن میں منشیات کی تلاش، دھماکہ خیز مواد کا پتہ چلانا، گم شدہ یا اغوا شدہ افراد تک رسائی، جبکہ ایسے مقامات تک پہنچنا جہاں کوئی جرم ہوا وغیرہ شامل ہیں۔
ڈیوٹی کے دوران وہ اپنے ہینڈلر کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور احکامات کے مطابق کارروائی کرتے ہیں۔ وہ اپنے ہینڈلر یا مالک کی آواز کے علاہ محض اشارے سے ہی سمجھ جاتے ہیں کہ ان کو کیا کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
ان کتوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کبھی عام لوگوں کو تنگ نہیں کرتے، کسی بھی رش کے مقام پر کتنے ہی لوگ پھر رہے ہوں لیکن یہ کسی پر نہیں بھونکتے نہ ہی ان کے پیچھے بھاگتے ہیں تاوقتیکہ ان میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جس کے پاس کوئی غیرقانونی چیز نہ ہو یا پھر کوئی جرم کرکے آ رہا ہو۔
اس موقع پر ان تربیت یافتہ کتوں کی صلاحیت کا امتحان لینے کیلیے ایک ڈیمو بھی کیا گیا جس میں ایک گاڑی کے خفیہ مقام پر منشیات کو چھپایا گیا جسے کتے نے چند منٹوں میں ہی کھوج لیا۔
واضح رہے کہ پاکستان آرمی کے زیراہتمام راولپنڈی میں کتوں کی تربیت کیلیے ایک باقاعدہ ٹریننگ سنٹر اور اسکول بھی ہے جس کو 1952 میں قائم کیا گیا تھا۔