The news is by your side.

Advertisement

سنگین غداری کیس میں غیر حاضری، پرویز مشرف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم

اسلام آباد: خصوصی عدالت میں سابق صدرپرویزمشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت، عدالت نے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی خصوصی عدالت میں مظہرعالم میاں خیل کی سربراہی میں3 رکنی خصوصی عدالت نےسنگین غداری کیس کی سماعت کی، دوران سماعت عدالت نے ملزم کی عدم موجودگی پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا۔

پرویز مشرف کے وکیل جسٹس یاور علی نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا عدالت نے خود نہیں کہا تھا کہ 342 کے تحت ملزم کا بیان ریکارڈ کیا جائے ؟

استغاثہ کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے عدالت کو کہا کہ 342 کے بیان کو ریکارڈ کرنا استغاثہ کی ذمہ داری نہیں ہے، پرویز مشرف دبئی جاکر نہ تو اسپتال میں داخل ہوئے اور نہ ہی اُن کو صحت کے حوالے سے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ سپریم کورٹ میں ملزم کی جانب سے جواب دائر کیا گیا تھا کہ اگر علاج کے لیے بیرون نہ بھیجا گیا تو صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

دوران سماعت جج نے ریمارکس دیے کہ پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں اُن کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا اور نہ ہی دفعہ 342 کے تحت ملزم کا بیان اسکائپ پر لیا جاسکتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے مزید کہا کہ عدالت ضابطہ فوجداری کے تحت آگے نہیں بڑھ سکتی ، ملزم کے خلاف آئین و قانون کی روشنی میں ہی فیصلہ کیا جائے گا۔

ملزم کی مسلسل عدم موجودگی کے باعث عدالت نے اسٹیٹ بینک کے ذریعے ملزم کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم دہتے ہوئے کہا کہ اگر اس میں کوئی شراکت دار ہے تو وہ 6 ماہ کے اندر عدالت سے رجوع کرکے اپنا مؤقف پیش کرے۔

اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف کی جائیداد میں اُن کے اہل خانہ سمیت دیگر افراد کے حصے بھی موجود ہیں، ہم اس حکم کے خلاف اعتراض جمع کروائیں گے، عدالت نے سیشن جج کے ذریعے مشرف کی جائیداد کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت مشرف کی گرفتاری یا عدالت میں پیش ہونے تک ملتوی کردی۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں