site
stats
امریکا

امریکا نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلیا

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے جس کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اب امریکی سفارتخانے کو باقاعدہ طور پر یروشلم منتقل کردیا جائے گا.

یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کا سرکاری اعلان امریکی صدر نے وائیٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا معاملہ کافی عرصے سے سرد خانے میں تھا تاہم آج اسرائیل اور فلسطین سے متعلق بہت بڑا اعلان کرنے جارہا ہوں جس کے تحت یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرلیا گیا ہے.

امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کئی امریکی صدور نے اس اقدام کا سوچا تھا لیکن وہ ایسا نہیں کرسکے اس لیے یہ معاملہ کافی برسوں سے التواء کا شکار تھا جس پر میں آج سخت فیصلہ کرتے ہوئے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور اس مشکل کام کو انجام تک پہنچانے  پر خوشی محسوس کر رہا ہوں۔

امریکی صدر نے کہا کہ 20 سال سے اسرائیل اور فلسطین مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل رہا تھا گو کہ اسرائیل ایک خود مختار ملک ہے اور خود مختار دارالحکومت کا اختیار بھی رکھتا ہے جب کہ امریکا نے 70 سال قبل ہی اسرائیل کو تسلیم کرلیا تھا اور اسی دن سے اسرائیل یروشلم کو اپنا دارالحکومت مانتا ہے تو اس پہ ہمیں اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یروشلم 3 بڑے مذاہب کا دل ہے اور کامیاب جمہوریت کا مرکز بھی ہے اس لیے جلد از جلد اس سے متعلق فیصلہ کرنا تھا اور صدر بننے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ عالمی مسائل کا حقیقت پسندانہ مقابلہ کروں گا اور آج کا فیصلہ اسی وعدے کا تسلسل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل روشن اور شاندار ہے اور امن کے لیے مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کو متحد ہونا پڑے گا جب کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ اس فیصلے کے بعد قیام امن کی کوششوں میں تعطل نہیں آئے گا بلکہ امن کی کاوشیں مزید تیز کی جائیں گی۔

امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کی یروشلم منتقلی کے امریک اقدام پر مشرقی وسطیٰ سمیت مسلم دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سعودی عرب، ترکی، اردن، مصر، ترکی اور پاکستان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہے ٹرمپ کے اس فیصلے کو خطے میں قیام امن کی کوششوں میں بگاڑ کا سبب قرار دیا ہے۔

جب کہ فلسطین حکومت اور عوام نے یروشلم کو دارالخلافہ تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کو دو ریاستی حل کی موت قرار دیا ہے اور اس فیصلے کو ناقابل عمل تجویز قرار دیا ہے اور ایک طرفہ فیصلے کو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار نہیں رکھے گا جس سے مسائل پیدا ہوں گے جب کہ حماس نے امریکی صدر کے خلاف مزاحمت کا اعلان کردیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top