صدر ٹرمپ کے بے تکے مصافحے -
The news is by your side.

Advertisement

صدر ٹرمپ کے بے تکے مصافحے

اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا چکے ہیں تو اپنی مختلف حرکات و سکنات کے باعث مسلسل میڈیا کے طنز و تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ حال ہی میں ٹرمپ کے مختلف رہنماؤں سے کیے جانے والے عجیب وغریب مصافحے بھی مذاق کا نشانہ بن گئے۔

اس تمام سلسلے کا آغاز اس وقت ہوا جب صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی تقریر کی۔ تقریر کے بعد انہوں نے نائب صدر مائیک پنس سے مصافحہ کیا۔

یہ مصافحہ نہایت عجیب و غریب تھا جس میں ٹرمپ نے ہاتھ ملاتے ہوئے پنس کا ہاتھ فرط جذبات اور گرم جوشی سے اپنی طرف کھینچنا شروع کردیا۔

نائب صدر مائیک پنس اس صورتحال سے خاصے جزبز نظر آئے۔

اس کے بعد کچھ اسی قسم کا مصافحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب ٹرمپ نے نیل گورسچ کو امریکی وفاقی ایپلیٹ عدالت کا جج مقرر کیا۔ نامزدگی کی تقریب میں تقریر کے بعد جب نیل نے ٹرمپ سے مصافحہ کیا تو ٹرمپ نے ایک بار پھر ان کے ہاتھ کو کئی دفعہ اپنی طرف کھینچنا شروع کردیا۔

trump-3

اس بار تو یوں لگا کہ دھان پان سے نیل گورسچ ٹرمپ کی کھینچا تانی سے گر پڑیں گے۔

کچھ دن قبل جب جاپانی وزیر اعظم شنزو ایبے ٹرمپ سے ملنے پہنچے تو ٹرمپ اس بار بھی اپنے نامعقول مصافحے سے باز نہ آئے۔ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر شنزو ایبے بھی ٹرمپ کی اس کھینچا تانی کا نشانہ بن گئے۔

trump-2

تاہم ہر وقت ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے رکھنے والے ایبے ایسے وقت میں بھی اپنی مسکراہٹ نہ بھولے، البتہ وہ الجھن کا شکار ضرور نظر آئے۔

اور ہاں، برطانوی وزیر اعظم تھریسا مئے، جو ٹرمپ سے بطور امریکی صدر ملاقات کرنے والی پہلی عالمی رہنما تھیں، جب ٹرمپ سے ملاقات کے لیے پہنچیں تو ٹرمپ نے مستقل ان کا ہاتھ تھامے رکھا، کہ کہیں وہ اپنی اونچی ہیل کے باعث گر نہ پڑیں۔

برطانوی میڈیا کو ٹرمپ کی یہ حرکت سخت ناگوار گزری اور اس نے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہا کہ اس قدر خوش اخلاقی کا مظاہرہ تو ٹرمپ نے کبھی اپنی اہلیہ کے ساتھ بھی نہیں کیا۔

اب ٹرمپ اپنی عادت سے مجبور ہوں، یا عالمی رہنماؤں سے ملتے ہوئے ٹرمپ خوشی سے بے قابو ہو کر ایسے مصافحے کرتے ہوں، امریکی میڈیا کا تو یہی مشورہ ہے، کہ جس کو اپنی جان اور عزت عزیز ہو، وہ ٹرمپ سے مصافحہ کرنے سے گریز کرے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں