The news is by your side.

Advertisement

میرے فالورز کم ہو گئے ہیں‘ ٹرمپ کا ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو سے شکوہ

واشنگٹن : امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو سے ہونے والی ملاقات میں ٹوئٹر پر اپنے فالورز کی تعداد میں کمی کا شکوہ کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ملاقات کا زیادہ حصہ ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو سے اپنے فالورز میں کمی کے حوالے سے سوالات کرنے میں گزار دیا تھا۔

رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی تشویش کے جواب میں ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو نے صدر کو واضح کیا کہ کمپنی جعلی ٹویٹر اکاﺅنٹس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس وجہ سے بہت سی نامور شخصیات کے فالورز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

چیف ایگزیکٹو جیک ڈارسی کا کہنا تھاکہ کمپنی کے اس اقدام سے ان کے فالورز بھی پہلے کی نسبت کم ہوئے ہیں۔

جیک ڈارسی کی وضاحت کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ رپبلکن پارٹی کے رکن ہونے کی وجہ سے ٹوئٹر کمپنی ان سے تعصب رکھتی ہے۔’بطور رپبلکن (ٹوئٹر کمپنی ) میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی اور یہ بہت امتیازی رویہ ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے اعداد و شمار دینے والے ادارے ’کی حول‘ کے مطابق جولائی کے مہینے سے اب تک صدر ٹرمپ نے اپنے پانچ کروڑ تیس لاکھ ٹوئٹر فالورز میں سے 2 لاکھ 4 ہزار فالورز کھوئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اکتوبر میں بھی صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے ٹویٹ کیا تھا کہ ٹوئٹر نے ان کے اکاﺅنٹس سے بہت سے لوگوں کو ہٹایا ہے اور کمپنی نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو اکاﺅنٹ بنانے میں مشکل آرہی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر غلط خبروں کی تشہیر کر کے مبینہ طور پر ووٹرز پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جس کے بعد سے ٹویٹر نے مشتبہ اکاﺅنٹس کو بند کرنے کا سلسہ شروع کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ سمیت دیگر رپبلکن پارٹی کے ممبران بھی ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی طرف تعصب رکھنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ٹویٹر کمپنی کے عہدیداروں نے ان الزامات کو ہمیشہ رد کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا شمار ٹویٹر پر سب سے زیادہ فالو کی جانے والی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کے ٹویٹر پر پانچ کروڑ نوے لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں۔

ٹوئٹر کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر کارلوس مونشے نے گزشتہ مہینے امریکی سینیٹ میں سماعت کے دوران واضح کیا تھا کہ ان کی کپمنی سے متعلق فیصلے اور ٹویٹر پرشائع کیے جانے والے موادکا تعین سیاسی نظریات اورپارٹی وابستگیوں کی بنیاد پرنہیں کیا جاتا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں