The news is by your side.

Advertisement

ایران پر حملے کے لیے تیار تھے، تین اطراف سے اسٹرائیک کرنا تھی، ٹرمپ کا اعتراف

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ہم لوگ ایران پر حملے کے لیے تیار تھے، ہمیں تین اطراف سے اسٹرائیک کرنا تھی، آپریشن سے 10 منٹ پہلے حکم واپس لیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک ڈرون گرانے پر جواب دینے کے لیے ہمیں جلدی نہیں ہے، ہم لوگ ایران پر اسٹرائیک کے لے تیار تھے، میں نے پوچھا کتنے لوگ مریں گے تو جواب ملا 150 افراد مریں گے، آپریشن سے دس منٹ پہلے حکم واپس لے لیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، گزشتہ رات مزید پابندیاں لگائی گئیں، ایران کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اوباما نے مجبوری میں ایران سے خوفناک ڈیل کی تھی، تہران کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر جن میں سے دو ارب کیش تھا، ایران مشکل میں تھا اور اسے ہم نے بیل آؤٹ پیکیج دیا۔

مزید پڑھیں: ڈرون گرانے پرٹرمپ نے ایران پرحملے کا حکم دیا اوراچانک واپس لے لیا، امریکی اخبار کا دعویٰ

انہوں نے کہا کہ اوباما حکومت نے ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کا راستہ دکھایا، شکریہ کرنے کے بجائے ایران شور مچا رہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دیا تھا لیکن حملے کا فیصلہ اچانک واپس لے لیا۔

امریکی اخبار کا کہنا تھا امریکی طیارے فضاؤں میں آگئےتھے اور بحری جہازوں نے پوزیشن لےلی تھی تاہم آپریشن کے آغاز سے چندگھنٹے قبل ہی صدرٹرمپ نے حملے کا فیصلہ اچانک واپس لے لیا۔

اس سے قبل ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرائے جانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے امریکی ڈرون گرا کر بہت بڑی غلطی کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں