The news is by your side.

Advertisement

جہاں سے آئی ہو ، واپس وہی چلی جاؤں ، ٹرمپ کا کانگریس خواتین کو مشورہ

صدرٹرمپ امریکا کوسفیدفاموں کا ملک بنانا چاہتےہیں،نینسی پلوسا

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اور متنازع بیان سامنے آگیا ، امریکی صدر نے ڈیموکریٹک پارٹی کی غیرسفید فام خواتین کوواپس اپنے ملک جانے کا مشورہ دے دیا، جس پر ایوان نمائندگان نیسنی پلوسی نے ٹرمپ پر شدید تنقید کی۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا اور مخالفین کیخلاف سخت بیانات دینے والے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا اس بارکانگریس کی غیرسفید ارکان نشانہ بنیں اور کانگریس کی چارخواتین ارکان کو واپس اپنے آبائی ملک چلے جانے کا مشورہ دے دیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا یہ خواتین مجھ پر اور امریکا پر کڑی تنقید کرتی ہیں، ڈیموکریٹک کی ان ارکان کو اپنے ممالک واپس جانا چاہئیے، جو لاقانونیت، کرپشن اور جرائم کا شکار ہیں، یہ خواتین اپنے ملکوں کوٹھیک کریں۔

صدرٹرمپ کے بیان پراسپیکر نینسی پلوسی نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا صدرٹرمپ کا بیان نسل پرستانہ ہے۔صدرٹرمپ امریکا کوایک بارپھرسفیدفاموں کا ملک بنانا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کانگریس کی تین ارکان الیگزینڈرا اوکاسیو، راشدہ طلیب اور آیانا پریسلی امریکا میں پیدا ہوئیں تاہم ان کے آباواجداد کا تعلق مختلف ممالک سے ہے جبکہ ایک رکن کانگریس الحان عمربچپن میں والدین کے ساتھ امریکا آگئی تھیں۔

یاد رہے اپریل میں صدرڈونلڈٹرمپ نے الہیان عمرکا نائن الیون سے متعلق پرانا بیان ٹوئٹ کیا تھا، جس میں ایک ویڈیو شئیر کی ہے، جس میں نائن الیو حملوں کی کلپس کے ساتھ ساتھ الہان عمر کے ایک حالیہ بیان کے چند حصے شامل کیے گئے تھے اور بیان میں کہا تھا ہم کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔

مزید پڑھیں : مسلمان کانگریس خواتین کیخلاف ٹرمپ کے بیان پر اراکین پارلیمنٹ کی مذمت

اس بیان پر الہیان عمرکو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا الہیان نے نائن الیو واقعہ کوجھوٹا قراردینے کی کوشش کی ہے۔

بعد ازاں ڈیموکریٹس اراکین نے امریکی ایونِ نمائندگان کا حصہ بننے والی دو مسلمان خواتین کے خلاف امریکی صدر کا بیان انتہائی خطرناک اور تشدد کو فروغ دینے کے مترادف قرار دیا تھا۔

خیال رہے رواں سال جنوری میں امریکی کانگریس کی رکن منتخب ہونے والے پہلی مسلمان خاتون راشیدہ طلیب نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو امریکا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں