مسئلہ کشمیر کے بغیر امن ممکن نہیں، طالبان کے مراکز افغانستان میں ہیں، عبدالباسط
The news is by your side.

Advertisement

مسئلہ کشمیر کے بغیر امن ممکن نہیں، طالبان کے مراکز افغانستان میں ہیں، عبدالباسط

امرتسر: انڈیا میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے مراکز اور قیادت افغانستان میں ہیں، بھارت سے مذاکرات کے خواہش مند ضرور ہیں تاہم ہمارا بنیادی مسئلہ جموں و کشمیر ہے جب تک یہ حل نہیں ہوجاتا تب تک جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ کانفرنس کا اعلامیہ اچھا ہے کیونکہ اس میں کالعدم تنظیموں کا ذکر بھی آیا، ہم افغانستان میں امن کے خواہش مند ہیں اس لیے پچھلے 35 سال سے قربانیاں پیش کرتے آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان کے مراکز اور قیادت موجود ہے، ہمارا روز اول سے مطالبہ ہے کہ ایسے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور قیادت کا خاتمہ کیا جائے تاہم افسوس ہے کہ پڑوسی ملک کی جانب سے خاتمے کے بجائے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگادیا جاتا ہے۔


پڑھیں: ’’ ہارٹ ایشیاء کانفرنس، افغان صدرکی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی ‘‘


پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی وہ ویسے ہی اچانک مل گئے اور تھوڑی بہت بات چیت ہوئی لیکن باقاعدہ طور پر کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

بھارت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے عبدالباسط نے کہا کہ ہم غیر مشروط مذاکرات کے خواہش مند ہیں تاہم بھارت اُسے کمزوری سمجھتا ہے، ہم برابری کی سطح پر مذاکرات چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی سے بھیک مانگ رہے ہیں۔


مزید پڑھیں: ’’ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس: سرتاج عزیز نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دے دی ‘‘


دوسری جانب ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے اختتام پر بھارتی حکام نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر مشیر خارجہ کو پریس کانفرنس سے روک دیا، اس عمل کی مذمت کرتے ہوئے پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ ’’بھارت نے سیکیورٹی کو جواز بنا کر پریس کانفرنس کرنے سے روکا جو ہمارا حق تھا‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں