The news is by your side.

Advertisement

روس سے میزائل خریداری کا معاہدہ، ترکی نے امریکی دباؤ مسترد کر دیا

انقرہ: روس سے میزائل خریداری کے معاہدے کے سلسلے میں ترکی پر امریکا کی جانب سے پڑنے والے دباؤ کو ترکی نے مسترد کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ روس سے میزائل خریداری کے معاہدے پر ہم امریکی دباﺅ میں نہیں آئیں گے۔

ترک صدر اردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کے ساتھ ایس 400 میزائل سسٹمز کی خریداری ان کے ملک کی خود مختاری کا معاملہ ہے اور وہ اس بارے میں کسی دباﺅ میں نہیں آئیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق منگل کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے باہمی دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، امریکا کے شدید اعتراض کے باوجود نیٹو کا رکن ملک ترکی روسی دفاعی میزائل نظام خریدنے پر مصر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایس 400 بحران کے بعد امریکا نے ترکی کے سامنے راستے بند کردئیے

واضح رہے کہ روس ترکی کو ابتدائی طور پر ایس 400 میزائل سسٹمز میں سے 4 اینٹی ایئر کرافٹ سسٹم رواں برس جولائی میں فراہم کرے گا جن کی مالیت 2.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔

یاد رہے کہ چار دن قبل امریکی وزارت دفاع پنٹاگون کا کہنا تھا کہ امریکا ترکی کے ساتھ ایک مشترکہ ایکشن گروپ کی تشکیل پر غور کررہا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان روس کے ایس 400 دفاعی نظام اور امریکا کے ایف 35 جنگی جہازوں کے منصوبے کے حوالے سے پیدا ہونے والے بحران کا کوئی حل نکالا جا سکے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں