The news is by your side.

Advertisement

جمال خاشقجی قتل: مزید 6 سعودی شہریوں پر فرد جرم عائد

انقرہ: ترک پراسیکیوٹرز نے جمال جاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے پر مزید 6 سعودی شہریوں پر فرد جرم عائد کردی، ملزمان ترکی میں موجود نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود مقدمہ چلایا گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترک پراسیکیوشن نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے چھ ملزمان کے خلاف ان کی غیرموجودگی میں مقدمہ چلایا اور الزام ثابت ہونے پر فرد جرم عائد کی۔

رپورٹ کے مطابق استنبول کے پراسیکیوٹرز نے ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کے بعد عدالت سے 2 ملزموں کے لیے عمر قید جبکہ بقیہ 4 کے لیے 5 سال جیل کی سزا کی درخواست کی ہے۔

ملزمان کے خلاف فرد جرم عدالت کو مرکزی کیس میں شامل کرنے کے لیے بھجوائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ معروف امریکی اخبار سے منسلک صحافی و کالم نگار جمال خاشقجی 2 اکتوبر 2018 کو ضروری کاغذات کے لیے استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے گئے تھے تاکہ اپنی ترک نژادمنگیتر سے شادی کرسکیں لیکن وہ سفارت خانے سے ہی لاپتہ ہوگئے، عالمی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے جمال خاشقجی کی استنبول کے سعودی سفارت خانے میں موت کی تصدیق کی تھی، مقتول کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے گئے تھے۔

بعدازاں قاتلوں کی گرفتاری اور انہیں سزا دینے کے لیے ترکی میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں 20 سعودی شہریوں کے خلاف بھی استنبول کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔

سعودی عرب میں جمال خاشقجی کے قاتلوں کی سزائے موت ختم

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے پر سزائے موت پانے والے 5 مجرمان کی سزا تبدیل کرکے عمر قید کر دی گئی تھی۔ پانچ مجرمان کو 20،20 سال قید جب کہ دیگر تین مجرموں کو 7 سے 10 قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کا نفاذکیا جانا چاہیئے۔

گزشتہ سال 23 دسمبر کو عدالت نے جمال خاشقجی قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے 5 ملزمان کو سزائے موت اور 3 کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی تھی، بعدازاں جمال خاشقجی کے بیٹوں نے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں