site
stats
عالمی خبریں

ترکی میں ناکام بغاوت، 45 اخبارات اور18 ٹی وی چینلز کی نشریات بند

انقرہ : ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد کریک ڈاؤن جاری ہے، اردگان حکومت نے اب تک پچاس ہزار سے زائد افراد کو نوکریوں سے برخاست کر دیا ہے جبکہ میڈیا ہاوسز پر بھی کریک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے۔

ترکی میں فوج کے ایک چھوٹے گروپ کی جانب سے ناکام بغاوت کے بعد صدر طیب اردگان کی اپنے مخالفین کے خلاف کریک ڈاون مہم میں میڈیا گروپس بھی لپیٹ میں آگئے ہیں ۔

مزید پڑھیں : ترکی: ناکام فوجی بغاوت،صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

میڈیا کے خلاف جاری آپریشن میں اب تک پینتالیس اخبارات اور اٹھارہ ٹی وی چینلز کی نشریات کو بندکیا گیا جبکہ تئیس ریڈیو اسٹیشنز کو بھی خاموش کرا دیا گیا ہے ۔ عالمی نیوز ایجنسییز کے تین دفاتر بھی اس کریک ڈاون کی زد میں آگئے ہیں جبکہ پچاس کے قریب صحافیوں کو بغاوت کی حمایت کرنے کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے یہیں بس نہیں کیا بلکہ تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں سے پچاس ہزار سے زائد افراد کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے، جس سے ترکی میں بڑی بے روزگاری کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں : ترکی میں شعبہ تدریس سے وابستہ 3000 افراد معطل

واضح رہے کہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی حکومت کی جانب سے اب تک اہلکاروں، ججوں، اساتذہ اور سرکاری ملازمین اور صحافیوں سمیت 60 ہزار سے زائد افراد کو معطل یا گرفتار کیاجاچکا ہے۔

ترک حکام نے 42 معروف صحافیوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے، جن میں ایک خاتون صحافی نازلی بھی شامل تھیں۔

مزید پڑھیں : ترکی : بغاوت کے الزام میں 6 ہزارسے زائد افراد گرفتار

یاد رہے کہ ترک فوج کے ایک گروہ نے بغاوت کی تھی، صدر اردگان کی اپیل پر عوام فوجی بغاوت کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں اور سڑکوں پر گشت کرتے باغی ٹولے کے ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے۔ ترک عوام نے ٹینکوں اور باغی دستوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ جمہوریت کی طاقت سے باغی ٹولہ پسپا ہونے پر مجبور ہوا اور عوام نے سرکاری عمارتوں سے باغی فوجیوں کونکال باہر کردیا تھا، بغاوت کی کوشش کے دوران 256 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 1100 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top