site
stats
عالمی خبریں

ترکی کا ہالینڈ سے تعلقات اور رابطے معطل کرنے کا اعلان

انقرہ : ہالینڈ اور ترکی کے تنازعے میں شدت آگئی، ترکی کا ہالینڈ سے تعلقات اور رابطے معطل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ترکی اور ہالینڈ کا تنازعہ شدت اختیار کر گیا، ترکی نے ہالینڈ سے تعلقات رابطے معطل کردئیے، ترکی کے نائب وزیراعظم نعمان قرتلمش کا کہنا ہے کہ ہالینڈ کے سفیر کو ترکی واپس آنے کی اجازت نہیں دیں گے، ڈچ حکام کو لے جانے والے طیارے ترکی کی فضائی حدود سے نہیں گزر سکیں گے۔

ترک نائب وزیراعظم نے کہا جب تک ہالینڈ اپنے اقدامات کی تلافی نہیں کرتا، تعلقات بحال نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے ترکی اورہالینڈ پرتنازعہ سفارتی بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا ہے کہ  کہ وہ لفظوں کی جنگ بند کرکے سفارتی تنازع بات چیت سے حل کریں۔محکمہ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نیٹو کے اتحادی ہیں اور صدر ٹرمپ اس معاملے پر براہ راست مداخلت نہیں کرنا چاہتے کیونکہ دونوں ممالک میں مضبوط جمہوریتیں موجود ہیں۔

ترک صدر نے ہالینڈ کو’بناناریپبلک‘ قرار دے دی

اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردگان نے ہالینڈ کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ہالینڈ کو بناناریپبلک قرار دیا تھا۔

ہالینڈ میں ترکی کی ایک خاتون وزیر کو ملک بدر کیے جانے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نےاپنے بیان میں کہاکہ ہالینڈ کو اپنے کیے کی قیمت ادا کرنا پڑے گی، دنیا ترکی کو انسانی حقوق پرعمل درآمد کا درس دیتی ہے، اب اسے چاہیے کہ ہالینڈکے اس غیرقانونی اقدام کا نوٹس لےکراس پرپابندیاں عائد کرے۔

خیال رہے کہ ہالینڈ اور ترکی میں تنازعہ ہالینڈ کے انتخابات کے دوران ترک رہنماؤں کو ریلی نکالنے سے روکے جانے پر شروع ہوئی تھی، جس کے بعد ڈچ حکومت کی جانب سے ترکی کے وزیر خارجہ کے جہاز کو ہالینڈ میں اترنے کی اجازت نہ دینے اور خاتون وزیر کو ملک بدر کرنے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھ گئی۔

وزیر خارجہ مولود چاوش کو ہالینڈ میں رہائش پذیر ترک تارکین وطن کی ریلی سے خطاب کرنا تھا، ڈچ حکومت نے پہلے اس پر رضامندی ظاہر کی تھی، بعد ازاں ترکی کے وزیر خارجہ کے طیارے کو لینڈ کرنے کی اجازت نہ دی گئی تھی۔

ترک وزیر فاطمہ بتول سایان کایا ترکی میں صدر اردگان کے اختیارات میں اضافے کے لیے ہونے والے ریفرینڈم کے سلسلے میں راٹرڈیم میں مقیم ترک باشندوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آئی تھیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top