معاشی بحران، ترک حکومت کا کفایت شعاری مہم اور اخراجات میں کمی کا فیصلہ
The news is by your side.

Advertisement

معاشی بحران، ترک حکومت کا کفایت شعاری مہم اور اخراجات میں کمی کا فیصلہ

انقرہ : ترکی نے معاشی بحران سے نکلنے کے لیے کفایت شعاری مہم اور اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ترکش لیرا کے قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ترک حکومت نے معاشی بحران سے نمٹنے اور آئی ایم ایف پروگرام سے بچنے کے لئے کفایت شعاری مہم اور اخراجات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

ترک حکومت کی جانب سے اقدامات سے لیرا کی قدر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور لیرا کی قدر میں ڈھائی فیصد کا اضافہ ہوا۔

لیرا کی قدر میں اضافے کی وجہ حکومتی اقدامات اور قطر کی جانب سے ترکی میں براہ راست پندرہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف حکام نے کہا ہے کہ ترکی کی جانب سے پروگرام کے حصول کے لئے کوئی درخواست نہیں ملی ہے۔


مزید پڑھیں :  طیب اردوگان نے آئی فونز سمیت دیگر امریکی مصنوعات پر پابندی لگادی


اس سے قبل ترک صدر طیب اردوگان نے امریکی آئی فونز اور الیکرانکس اشیاء سمیت دیگر امریکی مصنوعات پر پابندی لگانے اور ترکی میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو اضافی مراعات دینے کا اعلان کردیا۔

طیب اردوگان کا مزید کہنا تھا کہ لیرا کی قدر میں اضافے اور بحالی کے لیے روس سمیت 4 ملکوں سے مقامی کرنسی میں تجارت کی جائے گی اور ساتھ ساتھ ملکی بقاء کی خاطر ترک شہریوں کو بھی امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہوگا تاکہ امریکا کا غرور ٹوٹ جائے۔

یاد رہے چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ترکی سے امریکا میں دھاتوں اور دھاتی مصنوعات کی درآمدات پر عائد کردہ محصولات کو دوگنا کر رہے ہیں۔


مزید پڑھیں : امریکا سے تنازع ترک کرنسی پر اثرانداز ہونے لگا، لیرا کی قدر میں ریکارڈ کمی


جس کے بعد ترک کی کرنسی لیرا بری طرح متاثر ہوئی اور اس کی قدر میں ریکاڑ کمی دیکھنے میں آئی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکا نے ترک وزیرِ داخلہ سلیمان سویلو اور وزیرِ قانون عبد الحمید گل پر پابندیاں عائد کی تھیں، اور امریکا میں ان وزرا کے اثاثے منجمد کر دیے گئے تھے جب کہ امریکی شہریوں کو ان سے تجارت نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

جس کے بعد ترکی کے صدر اردگان نے امریکی وزیرِ داخلہ اور وزیرِ قانون کے اثاثے منجمد کردیئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں