رجب طیب اردگان نے ترکی میں سزائے موت کی بحالی کا عندیہ دے دیا: Death Penalty
The news is by your side.

Advertisement

رجب طیب اردگان نے ترکی میں سزائے موت کی بحالی کا عندیہ دے دیا

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردگان نے ترکی میں سزائے موت کی بحالی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ترکی میں 1984 سے سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہوا، ترک حکام کی جانب سے دو ہزار چار میں سزائے موت کو ختم کر دیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ سزائے موت کو جلد ہی بحال کیا جاسکتا ہے، جس پر سوچ بچار جاری ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایک بم دھماکے میں ہلاک ہونے والی ایک خاتون اور اس کے نومولود بچے کی آخری رسومات میں شرکت کے موقع پر کیا۔


ترک صدر کی سزائے موت کا قانون بحال کرنے کی حمایت


ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ وہ سزائے موت کی بحالی کے حوالے سے جلد فیصلہ کر لیں گے، یاد رہے کہ ترکی میں سن 1984 کے بعد ابھی تک کسی مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ترکی کے شہر یوسکوا میں ایک روڈ بم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کا نومولود بچہ ہلاک ہوگیا تھا، جبکہ ترک حکام نے حملے کی ذمہ داری کردش باغیوں پر عائد کی ہے۔

یاد رہے کہ 19 جولائی 2016 میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا تھا کہ اگر ترک عوام مطالبہ کریں اور پارلیمان ضرور قانون سازی کو منظور کرے تو وہ موت کی سزائے بحال کرنے کے لیے تیار ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں