The news is by your side.

Advertisement

ٹویٹر کرونا وائرس سے خوف زدہ، تمام دفاتر بند، ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت

نیویارک: سماجی رابطے اور مائیکروبلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر نے کرونا وائرس کے پیش نظر دنیا بھر میں اپنے دفاتر کو بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کردی۔

ٹویٹر کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق انتظامیہ اپنے ملازمین کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے دنیا بھر کے دفاتر  فوری طور پر بند کررہی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ہانگ کانگ، جاپان اور جنوبی کوریا کے تمام ملازمین کو پہلی ہی ہدایت کی جاچکی کہ وہ گھروں پر بیٹھ کر ہی کام کریں جبکہ بقیہ ممالک کے ملازمین کو کل سے دفتر نہ آنے کی ہدایت کردی۔

ٹویٹر نے وضاحت کی ہے کہ گھر سے کام کرنے والے ملازمین کو پوری تنخواہ دی جائے گی یا جو لوگ گھنٹے کے حساب سے کام کرتے ہیں انہیں بھی ویسے ہی معاوضہ دیا جائے گا جیسے دفاتر میں حاضری پر دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: اوبر کا کرونا سے متاثرہ ڈرائیورز اور مسافروں کے لیے اہم اعلان

کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گھر سے کام کرنے کے دوران ملازمین کو جن اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا وہ بھی انتظامیہ ادا کرے گی، علاوہ ازیں والدین کی جانب سے ملازمین کی دیکھ بھال کرنے پر جو خرچہ ہوگا اس کی مکمل ادائیگی بھی کمپنی کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ٹویٹر کے چار ہزار 900 دفاتر موجود ہیں جنہیں فوری طور پر بند کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل کرونا خطرے کے پیش نظر ایپل، ایمازون، مائیکروسافٹ، گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیز نے مختلف ممالک میں قائم اپنے دفاتر کو بند کر کے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کر چکی ہے۔

ٹویٹر، فیس بک اور ایما زون کے چند ملازمین کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے تھے جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اُن میں سے چند ملازمین کو قرنطینہ میں بھی رکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس، گوگل پلے اسٹور سے تمام ایپس ڈیلیٹ

یاد رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا خطرناک کرونا وائرس اب تک دنیا کے 123 ممالک میں پھیل چکا ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1 لاکھ 26 ہزار 420 تک پہنچ گئی، متاثر ہونے والے افراد میں سے 60 ہزار 314 صحت یاب بھی ہوئے جبکہ 4 ہزار 636 مریضوں کی اموات بھی ہوئیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں