The news is by your side.

Advertisement

اوبر کا کرونا سے متاثرہ ڈرائیورز اور مسافروں کے لیے اہم اعلان

نیویارک: دنیا بھر میں آن لائن ٹیکسی سروس فراہم کرنے والی کمپنی نے کرونا کا شکار ہونے والے ڈرائیورز اور مسافروں کے اکاؤنٹ عارضی طور پر معطل کرنے کا عندیہ دے دیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اوبر کمپنی اپنے دیگر مسافروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آئی ڈیز کو عارضی طور پر بند کرے گی۔

اس ضمن میں اوبر کی جانب سے مسافروں اور ڈرائیورز کو ایک پیغام بھیجا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ کرونا کے حفاظتی اقدامات کے پیش نظر اُن تمام لوگوں کے اکاؤنٹس بند کردیے جائیں گے جن کا ٹیسٹ مثبت آیا یا وہ کسی مریض کے ساتھ رابطے میں رہے۔

مزید پڑھیں: باہمت دادی نے 6 روز میں‌ ہی کرونا وائرس کو شکست دے دی

یاد رہے کہ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والا مہلک وائرس دنیا کے 100 سے زائد مملک میں پھیل چکا ہے، جس کی وجہ سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 4 ہزار سے تجاوز کرچکی جبکہ ہر روز نئے کیسز بھی سامنے آرہے ہیں۔

دنیا بھر میں کرونا کی روک تھام کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے تحت شہروں کو لاک ڈاؤن، دفاتر کی چھٹیاں اور تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے بدھ کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم کرونا وائرس کی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کررہے ہیں، اس ضمن میں ایک ٹیم بھی مختص کردی ڈاکٹر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اُن کے مشوروں کی روشنی میں پالیسی مرتب کر رہی ہے۔

کمپنی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اوبر نے متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے ڈرائیورز اور مسافروں کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جن کا دائرہ کار اب وسیع کیا جارہا ہے‘،

اوبر نے وضاحت کی کہ گزشتہ ماہ میکسیکو کے 240 ایسے صارفین کے اکاؤنٹس بند کیے گئے جو کرونا وائرس کا براہ راست شکار ہوئے یا پھر مریضوں کے ساتھ رابطے میں رہے۔

یہ بھی پڑھیں: پرتگال کے صدرمارسیلو بھی کرونا وائرس کا شکار

قبل ازیں اوبر نے ہفتے کو اعلان کیا تھا کہ ڈرائیورز اور ڈیلیوری پر مامور عملے کو اگر رائیڈ کے دوران نقصان پہنچا تو کمپنی اس کا ازالہ کرے گی، یعنی انہیں کے علاج اور 14 روز قرنطینہ پر آنے والے تمام اخراجات کمپنی ہی ادا کرے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ لندن میں کرونا کے ایک مصدقہ مریض نے اسپتال پہنچنے کے لیے ‘اوبر’ استعمال کی تھی جس کے بعد مسافروں نے کمپنی سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ مسافروں کا کہنا تھا کہ کرونا سے متاثرہ علاقوں میں سروس کی فراہمی سے وائرس پھیل سکتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں