The news is by your side.

Advertisement

نائجیریا: ٹوئٹر نے صدر مملکت کا ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا

ابوجہ: سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے نائجیریا کے صدر کا ٹوئٹ پالیسی کے خلاف قرار دیتے ہوئے ڈیلیٹ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ٹوئٹر نے کمپنی کے قانون کی خلاف وزری کا حوالہ دے کر نائجیریا کے صدر محمدو بوحاری کا منگل کو کیا گیا ایک ٹوئٹ حذف کر دیا ہے، ٹوئٹ میں بوحاری نے ملک کے جنوب مشرقی علاقے کی صورت حال پر مخالفین کے لیے دھمکی آمیز زبان استعمال کی تھی۔

محمد بوحاری کا یہ ٹوئٹ ایک ایسی صورت حال میں سامنے آیا تھا جب ملک میں علیحدگی پسندی کے جذبات اور تشدد کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، صدر نے ٹوئٹ میں ریاست بیافرا کے حامیوں کو سیکیورٹی حکام اور حکومت پر بڑھتے حملوں پر سزا دینے کی دھمکی دی تھی۔

بوحاری نے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ بیافرا خانہ جنگی کے دوران جو تباہی اور ہلاکتیں ہوئیں، انھیں سمجھنے کے لیے آج یہ برا سلوک کرنے والے ابھی بہت کم عمر ہیں، اور ہم میں سے وہ جنھوں نے 30 ماہ تک جنگ کا سامنا کیا، وہ ان لوگوں سے اسی زبان میں بات کریں گے جو یہ سمجھتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ بوحاری کا یہ ٹوئٹ ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں آتش زدگی اور حملوں کا رد عمل ظاہر ہوتا ہے، تاہم ابھی تک کسی بھی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سوشل میڈیا کمپنی نے کہا کہ بوحاری کا ٹوئٹ ناروا سلوک والی پالیسی کی خلاف ورزی پر مبنی تھا، جس کی وجہ سے صدر کا اکاؤنٹ بھی 12 گھنٹوں کے لیے معطل کیا گیا۔

بوحاری کے ڈیلیٹ کیے گئے ٹوئٹ میں 1967-1970 کے دوران کے نائجیریائی خانہ جنگی کا بھی ذکر کیا گیا تھا، واضح رہے کہ اس عرصے کے دوران ملک کے فوجیوں نے خود ساختہ جمہوریہ بیافرا کو ہرایا تھا، جس نے نائجیریا کے جنوب مشرقی حصے پر قبضہ کر رکھا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں