The news is by your side.

Advertisement

قصورمیں بچوں سےزیادتی کے واقعات پرٹویٹرمیں غم وغصہ

قصورمیں سینکڑوں بچوں اوربچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پرسوشل میڈیا پرانتہائی غم و غصے کا اظہارکیا جارہا ہے اور عوام کی جانب سے پنجاب حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

پنجاب کے شہرقصور کے حسین خان والا نامی دیہات میں ایک مقامی گروہ کے ملزمان نے 286 کمسن بچوں اور بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا کران کی وڈیو بناکربلیک میلنگ کررہے تھے اوریہ سلسلہ 2009 سے جاری تھا۔

وڈیو کلپس کے منظرِعام پرآنے کے بعد پولیس نے ملزمان کے خلاف کارروائی کی جس کے دوران7 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ دیگر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔


قصورمیں 286 کمسن بچوں سے جنسی تشدد، لواحقین کا احتجاج


متاثرین کے لواحقین کی جانب سے دائرمقدمہ کو مقامی پولیس نے انتہائی کمزورکیس بناکر عدلیہ میں پیش کیا جس سے ملزمان کو با آسانی ضمانتیں مل گئیں ہیں۔

اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ بھی گردش کررہا ہے جس میں عوام کی جانب سےپنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واقعے میں ملوث ملزمان کو کڑی سزسا دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔


#ChildAbuse


 

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں