The news is by your side.

Advertisement

یورپ کے بعد امریکا میں بھی "منکی پاکس” کی وبا پھوٹ پڑی

لندن: یورپی ملکوں کے بعد ” منکی پاکس” نامی وبا نے امریکا کا رخ کرلیا ہے، جہاں اس کا پہلا کیس رپورٹ ہوگیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے آغاز پر ’منکی پاکس‘ وبا کے متعدد کیسز سامنے آنے کی تصدیق کی گئی تھی اب امریکا میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے، امریکی ریاست میسا چوسٹس میں کینیڈا کے شہری میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی، متاثرہ شخص حال ہی میں کینیڈا سے واپس آیا تھا۔

کینیڈا میں بھی حکام نے کہا ہے کہ وہ متعدد مشتبہ کیسز کو دیکھ رہے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسپین اور پرتگال میں ’منکی پاکس‘ کے چالیس مصدقہ کیسز رپورٹ کیے گئے جبکہ برطانیہ میں چھ مئی سے اب تک نو کیسز سامنے آئے۔

برطانیہ کے محکمہ صحت کے مطابق ملک میں پہلا مریض ایک ایسا شخص تھا جس نے نائجیریا کا سفر کیا تھا تاہم دیگر کیسز ممکنہ طور پر کمیونٹی میں ایک سے دوسرے کو متاثر کرنے کے ہیں۔

برطانوی محکمہ صحت کے چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر سوسان ہاپکنز نے بتایا کہ ’نئے کیسز اور یورپ کے دیگر ملکوں سے سامنے آنے والی رپورٹس کو ملا کر ہم ابتدائی طور پر اس خدشے کی تصدیق کرتے ہیں کہ منکی پاکس ہماری کمیونٹیز میں پھیل رہا ہے۔

اس بیماری سے متاثرہ افراد کو صحت یاب ہونے میں ہفتوں لگ جاتے ہیں تاہم یہ بہت کم جان لیوا ثابت ہوتی ہے، وسطی اور مغربی افریقا کے ملکوں میں ’منکی پاکس‘ کی وبا حالیہ برسوں میں پھیلی تاہم یورپ اور شمالی امریکا میں یہ بہت کم ہی سامنے آئی۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ وہ اس بیماری کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے برطانیہ اور یورپ کے صحت کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر ماریہ وان کرخوو نے کہا کہ ’ہمیں اس بیماری سے متاثرہ ملکوں میں اس کے پھیلاؤ اور ان ملکوں سے دوسرے علاقوں تک اس کے پہنچنے کے خطرے کو بہتر انداز سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ادھر ڈبلیو ایچ او کے مطابق وہ کئی ایسے کیسز کی تحقیق کر رہے ہیں جن میں پتا چلا ہے کہ یہ بیماری ہم جنس پرست افراد میں ایک سے دوسرے کو لگی، عالمی ادارے کے مطابق یہ بیماری جسمانی رابطے اور بستر یا کپڑوں سے بھی پھیل سکتی ہے اگر ان پر مائع یا خون کے قطرے ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں