site
stats
حیرت انگیز

برطانوی شہری دماغ میں مسلسل قومی ترانا گونجنے سے پریشان

لندن: برطانیہ کے ضیعف العمر شخص عجیب و غریب بیماری میں مبتلا ہوگیا، اُن کے کانوں میں مسلسل  قومی ترانہ گونجنے لگا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 87 سالہ شہری رون گولڈ اسپنگ کو عجیب بیماری لاحق ہوگئی اور اُن کے کانوں میں مسلسل چار ماہ سے برطانیہ کا قومی ترانہ بج رہا ہے۔

متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ میرے کانوں میں ہر ہفتے 1700 سے زیادہ بار قومی ترانے کی دھن بجتی ہے اور یہ سلسلہ 3 ماہ سے جاری ہے، میری خواہش ہے کہ آئندہ ہفتے ملکہ الزبتھ سے ملاقات کر کے انہیں تمام روداد سناؤں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ تین ماہ قبل پیش آیا اور اب میرے کانوں میں صرف دھن ہی نہیں بلکہ مرد کی آواز میں قومی ترانہ بھی صاف سنائی دیتا ہے، میں نے کئی بار رات کو اٹھ کر اپنے پڑوسی کو بھی کہا کہ دیکھو اتنی زور زور سے قومی ترانہ کون پڑھ رہا ہے مگر ہمیں کبھی کوئی نظر نہیں آیا۔

رون گولڈاسپنگ کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں جب معاملہ پیش آیا تو میں گھر کے دروازے سے باہر نکلا اور دیکھنا چاہا کہ آخر کون  قومی ترانہ اتنی زور زور سے پڑھ رہا ہے اب یہ صورتحال ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ آواز اور بھی واضح ہوتی جارہی ہے۔

تصویر بشکریہ ڈیلی میل

متاثرہ شخص نے کہا کہ پہلے تو صرف رات کے اوقات میں ہی ترانے کی آواز سنائی دیتی تھی مگر اب دن کے کسی بھی حصے میں قومی ترانہ بجنے لگتا ہے جو میرے لیے قابلِ تکلیف اور پریشان کن ہے۔

طب کی زبان میں اس کیفیت کو ’میوزیکل ائیراسٹروم‘ کہا جاتا ہے جس میں کم سننے یا بہرے پن کی بیماری میں مبتلا شخص ہر وقت کوئی نہ کوئی آواز سننے لگتا ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ رون بھی اسی مرض کا شکار ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق 65 سال  کے بعد عام طور پر لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں کیونکہ بڑھتی عمر میں قوتِ سماعت ختم ہوجاتی ہے تو دماغ خود بہ خود اپنی آوازیں بنانا شروع کردیتا ہے۔

رون گولڈ کا مزید کہنا ہے کہ میں نے اپنے ڈاکٹرز کو یہ تمام صورتحال بتائی مگر وہ مطمئن نہیں ہوسکے اور انہوں نے دیگر لوگوں کی طرح میری بیماری کو پاگل پن قرار دیا تاہم اب جب بھی گانوں میں آواز گونجتی ہے تو میں آلہ سماعت لگا کر ٹی وی کی آواز تیز کردیتا ہوں جس کے بعد تھوڑا سکون محسوس ہوتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top