برطانیہ کا پلاسٹک پر پابندی لگانے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ کا پلاسٹک پر پابندی لگانے کا فیصلہ

دنیا بھر میں پلاسٹک کا استعمال ماحول، جنگلی حیات اور انسانی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہورہا ہے جس کے خوفناک اثرات دن بدن سامنے آتے جا رہے ہیں۔ پلاسٹک کے انہی نقصانات کو دیکھتے ہوئے برطانیہ نے ایک بار کے لیے قابل استعمال پلاسٹک پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کا اعلان برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے کامن ویلتھ اقوام کی میٹنگ کے دوران کیا۔

فیصلے کے تحت ایسا پلاسٹک جو صرف ایک ہی بار استعمال کیا جاسکے جیسے پلاسٹک کا شاپنگ بیگ، اسٹرا اور کان کی صفائی کرنے والے کاٹن سوئیب پر پابندی لگا دی جائے گی۔

یہ پابندی برطانیہ کے 25 سالہ ماحولیاتی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت برطانیہ کی ماحولیاتی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

میٹنگ کے دوران پیش کیے جانے والے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کے سمندروں میں اس وقت 15 کروڑ ٹن پلاسٹک موجود ہے اور ہر سال 10 لاکھ پرندے اور ایک لاکھ سے زائد سمندری جاندار اس پلاسٹک کو کھانے یا اس میں پھنسنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق صرف اسٹرا بھی پلاسٹک کے کچرے میں بے تحاشہ اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ برطانیہ میں ایک سال کے دوران 8 ارب 50 کروڑ اسٹرا کو استعمال کے بعد پھینکا گیا۔

خیال رہے کہ برطانیہ پلاسٹک کے استعمال کو کم سے کم کرنے کے لیے قابل تقلید اقدامات کر رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس مائیکرو بیڈز پر پاندی عائد کی جاچکی ہے۔

مائیکرو بیڈز پلاسٹک کے ننھے ننھےذرات ہوتے ہیں جو کاسمیٹکس اشیا، ٹوتھ پیسٹ اور صابنوں میں شامل کیے جاتے ہیں۔

چونکہ یہ بہت چھوٹے ہوتے ہیں لہٰذا یہ ہر قسم کے فلٹر پلانٹ سے باآسانی گزر جاتے ہیں اور جھیلوں اور دریاؤں میں شامل ہو کر ان کی آلودگی میں اضافہ اور سمندری حیات کی بقا کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

اسی طرح گزشتہ برس پلاسٹک کی تھیلیوں پر بھی قیمت مقرر کی جاچکی ہے جس کے بعد سپر اسٹورز میں یہ بیگ مفت ملنا بند ہوگئے۔

قیمت مقرر ہونے کے بعد ان بیگز کے استعمال میں حیرت انگیز کمی دیکھنے میں آئی۔ حکومتی ڈیٹا کے مطابق ان بیگز کی خریداری پر قیمت مقرر کیے جانے کے بعد اس کی طلب میں 99 فیصد کمی آچکی ہے۔

پلاسٹک کی تباہ کاری کے بارے میں مزید مضامین پڑھیں


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں