The news is by your side.

Advertisement

یوکرینی صدر اپنے اہم مطالبے سے دستبردار

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ اب اپنے ملک کو معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کی رکنیت دینے پر اصرار نہیں کررہے۔

غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ وہ یوکرین سے الگ ہونے والے روس کے حامی دو  علاقوں کی حیثیت پر سمجھوتا کرنے کو  بھی تیار ہیں۔

ٹی وی انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ نیٹو یوکرین کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اور یہ فوجی اتحاد متنازع چیزوں اور روس کے ساتھ تصادم سے خوفزدہ ہے اور وہ بھی کسی ایسے ملک کا صدر نہیں بننا چاہتے جو گھٹنوں کے بل کچھ بھیک مانگ رہا ہو۔

صدر پیوتن بھی چاہتے ہیں کہ اب یوکرین بھی انہیں خودمختار اور آزاد تسلیم کرے، یوکرینی صدر کا روسی صدر کے اس مطالبے پر کہنا تھا کہ وہ اس موضوع پر بات چیت کیلیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سیکیورٹی کی ضمانت کے بارے میں بات کررہا ہوں، ان دونوں خطوں کو روس کے سوا کسی اور ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے لیکن ہم اس موضوع پر بات چیت کرسکتے ہیں اور اس پر کوئی سمجھوتا بھی کرسکتے ہیں کہ یہ علاقے کس طرح رہیں گے۔

زیلنسکی نے کہا کہ ’’میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ ان علاقوں کے وہ لوگ کس طرح زندگی گزاریں گے جو یوکرین کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور یوکرین بھی انہیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے‘‘۔ اور یہ سوال ان دونوں علاقوں کو تسلیم کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک الٹی میٹم ہے اور اہم ایسے کسی الٹی میٹم کیلیے تیار نہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صدر پیوٹن بات چیت شروع کریں، وہ آکسیجن کے بغیر معلوماتی بلبلے میں رہنے کے بجائے بات چیت شروع کریں‘‘۔

واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 24 فروری کو حملہ کرنے سے قبل مشرقی یوکرین میں واقع دو علیحدگی پسند روس نواز ’جمہوریاؤں‘ دونیتسک اور لوہانسک کو خودمختار اور آزاد تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا یہ دونوں علاقے 2014 سے دارالحکومت کیف کے ساتھ حالت جنگ میں تھیں۔

 جبکہ یوکرین کی نیٹو میں ممکنہ شمولیت ایک نازک مسئلہ ہے اور روس نےاس معاملے کو بھی مغرب نواز پڑوسی ملک پر حملے کی وجہ قراردیا تھا۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتاکہ یوکرین نیٹو میں شامل ہو۔

یادرہے کہ گذشتہ صدی کے وسط میں سرد جنگ کے آغاز میں یورپ کو سوویت یونین سے بچانے کے لیے بحراوقیانوس کے آرپار واقع ممالک کے درمیان یہ فوجی اتحاد (نیٹو) تشکیل دیا گیا تھا۔حالیہ برسوں میں اس اتحاد میں سابق سوویت بلاک کے بعض سابق ممالک کو شامل کیا گیا ہے جس پرروس نالاں ہے کیونکہ وہ ان ممالک کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت کرتا رہا ہے۔روس نیٹو کی توسیع اور رکن ممالک کی تعداد میں اضافے کوخطرے کی ایک علامت قراردیتا ہے اور وہ مغرب کے ان نئےاتحادیوں کو اپنی دہلیز پرایک فوجی قوت کے طور پر دیکھتاہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں