The news is by your side.

Advertisement

دنیا کی سب سے خطرناک اور مہلک کرونا قسم سامنے آ گئی

کینبرا: جب سے کو وِڈ 19 کی وبا نے دنیا کو حصار میں لے کر اسے بالکل بدل کر رکھ دیا ہے، تب سے اس نئے کرونا وائرس سے جڑے انکشافات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، سب سے زیادہ خطرناک سمجھا جانے والا کرونا ویرینٹ ڈیلٹا کے بعد اب دنیا کا سب سے زیادہ متعدی ویرینٹ بھی سامنے آ گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو آسٹریلوی حکام نے کہا ہے کہ نہایت سرعت سے منتقل ہونے والی نئی کرونا قسم لیمبڈا (Lambda) کے کیسز آسٹریلیا میں بھی سامنے آ گئے ہیں، جس کے بارے میں ریسرچ کی گئی ہے کہ یہ ڈیلٹا سے بھی زیادہ خطرناک یعنی انفیکشس ثابت ہو سکتی ہے۔

محض گزشتہ 4 ہفتوں کے دوران لیمبڈا ویرینٹ 30 ممالک تک پھیل چکا ہے، جس نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سائنس دانوں کو ششدر کر دیا ہے، کرونا وائرس کی یہ میوٹیشن (تبدیل شدہ حالت) پہلی بار جنوبی امریکی ملک پیرو میں گزشتہ برس اگست میں منکشف ہوئی تھی، جہاں اپریل سے 81 فی صد کیسز کی وجہ یہی تبدیل شدہ کرونا وائرس تھا۔

پیرو میں اس ویرینٹ نے بلاشبہ تباہی مچائی، جہاں وائرس سے مجموعی طور پر 1 لاکھ 93 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، اگرچہ یہ تعداد کئی ممالک سے کم ہے، تاہم نہایت تشویش ناک امر یہ ہے کہ شرح اموات میں یہ ملک دنیا کا سر فہرست ملک ہے، جہاں فی دس لاکھ آبادی پر شرح اموات 5 ہزار 784 ہے۔ امریکا جہاں سب سے زیادہ 6 لاکھ 21 ہزار اموات ہو چکی ہیں لیکن وہاں فی دس لاکھ آبادی پر شرح اموات 2 ہزار کے قریب ہے۔

یہ ویرینٹ جنوبی امریکا میں بے تحاشا پھیل چکا ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک میں کرونا کیسز میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ آسٹریلیا کے قومی جینومکس ڈیٹابیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اپریل میں لیمبڈا ویرینٹ ایک غیر ملکی مسافر میں سامنے آیا تھا جسے نیو ساؤتھ ویلز میں قرنطینہ کیا گیا۔

برطانیہ میں 23 فروری سے 7 جون کے درمیان لیمبڈا وائرس کے 6 کیس رپورٹ ہو چکے ہیں، جب کہ یورپ میں بھی لیمبڈا ویرینٹ نے راستہ دیکھ لیا ہے، جہاں پہلے ہی ڈیلٹا کے خلاف جنگ جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لیمبڈا ویرینٹ وائرس کے اسپائک پروٹین میں 7 میوٹیشنز والا منفرد پیٹرن پایا گیا ہے، اسی وجہ سے یہ زیادہ تیزی سے لوگوں کو متاثر کرتا ہے، اور یہ کرونا ویکسین کے خلاف بھی زیادہ مزاحمت کی صلاحیت رکھتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں