The news is by your side.

Advertisement

پنجاب پولیس کو غنڈہ فورس بناکر میرے آفس کو یرغمال بنایا ہوا ہے، عمر چیمہ

سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس کو غنڈہ فورس بناکر میرے آفس کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

اے آر وای نیوز کے مطابق سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں پنجاب کا آئینی، سیاسی اور قانونی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے، پولیس کو غنڈہ فورس بناکر میرے آفس کو یرغمال بنایا ہوا ہے، پنجاب پولیس اور ن لیگ کے غنڈوں نے مخالفین پر تشدد کیا، ایک رکن اسمبلی ہسپتال میں داخل رہیں، ابھی بھی صحیح سے بات نہیں کرسکتی۔

عمر چیمہ نے مزید کہا کہ پنجاب میں غیر آئینی وزیر اعلیٰ آفس پر قابض ہوکر بیٹھا ہے، انوکھے لاڈلے جاکر وزیراعلیٰ کا الیکشن لڑے کیونکہ انکے والد وزیراعظم ہیں، میں نے تمام آئینی اداروں کوبھی خط لکھے ہیں، جب عدالتوں میں انصاف نہیں ملےگا تو عوام سڑکوں پر نکلے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کا وزیراعلیٰ سے حلف لینے کا آئین میں کہیں نہیں لکھا، ایک جج صاحب کا خیال تھا کہ یہ غیر آئینی فیصلہ ہے، وکلا برادری نے بھی اس پر اپنا مؤقف دکھایا، صدر مملکت نے آئین پاکستان کے تحت رپورٹ بھیجی تھی، ن لیگ کے وکلا کے پاس اتنی بڑی ڈگریاں ہیں لیکن پروفیشنل نہیں۔

سابق گورنر نے مزید کہا کہ میں نے بار بار لکھا کہ ہمیں سیکیورٹی کا خدشہ ہے کوئی سن نہیں رہا، وزیر داخلہ کو لیٹر لکھا کہ مجھے سیکورٹی دی جائے مگر جواب نہ آیا، سیکیورٹی اور گاڑیاں واپس لے لیں، آفس نہیں جانے دیا گیا، میں یہاں پر دیہاڑیاں لگانےنہیں آیا، جب تک اس آفس میں ہوں آئینی ذمے داری نبھاتا رہوں گا، عثمان بزدار شریف آدمی ہیں اس سے گاڑی بھی لے لی لیکن میں عثمان بزدار نہیں ہوں جو غنڈوں کے ذریعے دفترچھین لو گے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آزاد عدلیہ اور بہتر نظام کے لئے جدوجہد کی، آئین اور قانون کی بالادستی کے لئے کام کیا، صدر پاکستان کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری حوصلہ افزائی کی، ان کا کہنا تھا کہ میں ملک میں نظام کی بہتری، ریفارمز اور اصلاحات کیلئے بیٹھا ہوں، میں جو کچھ بھی کررہا ہوں آئینی وقانونی کردار ادا کررہا ہوں، مجھ سے پہلے گورنر ایمرجنسی بھی لگاتے رہے اور اسمبلیاں بھی توڑتے رہے، گورنر ہاؤس میں فیملیز رہتی ہیں، انکی زندگیوں کو کیسے رسک میں ڈال سکتا ہوں۔

عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ یہ خوفزدہ ہیں اور انہیں نظرآرہا ہے کہ ہم واپس آگئے تو انہیں بھاگنے نہیں دینگے، جسٹس جواد حسن کے خلاف ریفرنس نہیں بھیجیں گے، خواجہ آصف نے جو بات کی بالکل ٹھیک کی، آئندہ 24 گھنٹےمیں کوئی فیصلہ نہ ہوا تو لائحہ عمل بنائیں گے، سسلین مافیا کے ہاتھوں میں ملک نہیں دیا جاسکتا، پنجاب کے اندر وفاق کی بھی طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے۔

سابق گورنر نے مزید کہا کہ ہم کوئی ایسی غیرذمے دارانہ حرکت نہیں کرنا چاہتے جس سے اداروں کو مشکل ہو، میرا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ آفس سے قبضہ ختم کرایا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں