شامی ڈیموکریٹک پارٹی جنگ میں بچوں کو استعمال کررہی ہے: اقوامِ متحدہ Syria
The news is by your side.

Advertisement

شامی ڈیموکریٹک پارٹی جنگ اور حملوں میں بچوں کو استعمال کررہی ہے: اقوامِ متحدہ

دمشق: اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں ڈیموکریٹک پارٹی عوام پر حملوں کے لیے مسلح گروہوں کے ساتھ بچوں کو استعمال کرکے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اپنی رپورٹ میں شامی ڈیموکریٹک پارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ ایس ڈی ایف نے شام کے دیگر مسلح گروہوں کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی اور عوام پر حملے کیے۔ بیش تر حملہ آوروں کی عمریں اٹھارہ سال اور اس سے کم تھیں۔

اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن برائے شام کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مسلح گروہوں کی جانب سے جولائی 2017 سے جنوری 2018 تک پورے شام میں عبادت گاہوں،عوامی دفاع کے مراکز، مکانات، بازاروں اور اسکولوں پر تواتر سے حملے ہوئے۔

انکوائری کمیشن برائے شام کی 37 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں شامی ڈیموکریٹک فورس(ایس ڈی ایف) پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ شام کے جن علاقوں میں ایس ڈی ایف کا کنٹرول ہے، وہاں پارٹی نے مردوں کے علاوہ بچوں کو، جن عمر13 سال یا اُس سے کم ہیں، مسلح کرنے کے لیے مہم چلائی اور انہیں اسلحہ چلانے کی تربیت فراہم کر کے اگلے محاذوں پر بھیجا۔

شام کے شہرغوطہ میں بمباری،جاں بحق افراد کی تعداد 800 سے زائد ہوگئی

رپورٹ کے مطابق شام کے علاقے طبقا(رقّہ)میں جولائی 2017 کے دوران جنگ میں زخمی ہونے والے پندرہ اور سولہ سال کے دو لڑکے شامی ڈیموکریٹک پارٹی کا حصہ تھے، اس کے علاوہ اکتوبر 2017 میں اسی علاقے سے زخمی نوجوان لڑکیاں بھی بھرتی کی گئیں۔

واضح رہے کہ شام میں عرب ری پبلک نے 2003 میں اقوام متحدہ کا یہ قانون نافذ کیا تھا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو مسلح تنازعات اور جھگڑوں میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

جنوری میں امریکا کے پبلک افیئرز نے غیرملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ہم نے بین الاقوامی اتحاد کے تحت ایس ڈی ایف کو تربیت، ساز و سامان اور امداد فراہم کی، تاکہ وہ شام میں داعش سے منظم انداز سے لڑسکیں۔

شامی حکومت کی ظلم کی انتہا، امدادی سامان میں موجود 70فیصد دوائیں نکال لیں

جنوری ہی میں امریکی قیادت میں بننے والے اتحاد نے یہ اعلان کیا کہ وہ پندرہ ہزار جنگوؤں کو جنگی تربیت دیں گے، تاکہ وہ شمالی سرحد پر تعینات تیس ہزارا فواج کا حصہ بن سکیں۔ البتہ امریکی حمایت یافتہ شامی کردوں کے مسلح گروہ کو ترکی نے کردستان ورکر پارٹی سے تعلقات کی بنیاد پر دہشت گرد قرار دیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں