ادلب کے معاملے پر ترکی اور روس کی ڈیل، اقوام متحدہ نے خوش آئندہ قرار دے دیا
The news is by your side.

Advertisement

ادلب کے معاملے پر ترکی اور روس کی ڈیل، اقوام متحدہ نے خوش آئند قرار دے دیا

نیویارک: شامی شہر ادلب کے معاملے پر روس اور ترکی کے درمیان اہم ڈیل ہوئی جسے اقوام متحدہ نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور ترک صدر رجب طیب اردوگان کی ملاقات ہوئی تھی، اس دوران دونوں ملکوں کے سربراہان کی جانب سے شامی شہر ادلب میں غیر فوجی علاقے کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی اس ڈیل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں انٹونیو گوٹیرش کا کہنا تھا کہ ادلب کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں کی مشکلات آسان ہو جائیں گی۔

انہوں نے ادلب کی خانہ جنگی کے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس ڈیل کو کامیاب بنانے کی خاطر بھرپور کوشش کریں تاکہ وہاں جاری بحرانی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

ترک اور روسی صدور کے درمیان ملاقات، شام میں غیر فوجی علاقے کے قیام پر اتفاق

خیال رہے کہ گذشتہ روز ترکی اور روسی سربراہان کے درمیان ملاقات روسی شہر سوچی میں ہوئی تھی، ملاقات تین گھنٹے طویل جاری رہی تھی، رجب طیب اردوگان اور ولادی میر پیوٹن نے شامی شہر ادلب میں غیر فوجی علاقے کے قیام پر اتفاق کیا تھا۔

واضح رہے کہ ترک اور روس نے فیصلہ کیا ہے کہ اس دوران اس علاقے سے النصرہ فرنٹ سمیت تمام شدت پسند باغی گروپوں کو وہاں سے باہر نکالا جائے گا۔

اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے شام میں روسی حملوں کے تناظر میں کہا تھا کہ اس کی قیمیت پوری دنیا کو ادا کرنی پڑے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں